
عقیدت کا تو تقاضہ یہی ہے کہ بھارت کا نام ہی ایودھیا رکھ دیا جائے کیونکہ بھگوان رام صرف فیض آباد کے لئے نہیں بلکہ پورے بھارت کیلئے باعث افتخار ہیں اور اگر نام اس بناء پر بدلنا ہے کہ یہ نام مغلوں نے رکھے تھےیامغلوں کے نام پر ہیں تو اچھا ہے کہ سبھی مغل بادشاہوں کے ہی نام بدل دیئے جائیں جس سے یہ سب کے سب ہندو ہوجائیں جیسے الہ آباد پریاگ راج ہونے سے ہندو ہوگیااور فیض آباد ایودھیا ہونے سے اور مغل سرائے دین دیال اُپادھیائے ہونے سے ہندو ہوگیا اور سب سے پہلے اکبر کا نام ہی جودھا رکھ دیا جائے جس سے یہ بھی داغ مٹ جائے کہ ایک راج پوتانی مسلم بادشاہ اکبر کی بیوی تھی۔
ویسے کسی شہر کا نام بدلنا کوئی نئی بات نہیں ممبئی، بنگلورو، چنئی اور کولکاتہ آج بدلے ہوئے نام ہی ہیں اپنے اترپردیش میں ہی مایاوتی کے مدتِ کار میں امبیڈکرنگر، سنت کبیر نگر جیسے تمام نئے نام رکھے گئے یہاں تک کنگ جارج میڈیکل کالج کا نام بھی شاہوجی مہاراج کے نام پر رکھنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے میں مغل سرائے، الہ آباد اور فیض آباد کا نام بدلا جانا کوئی خاص بات نہیں اور نہ اس پر کسی کو اعتراض ہونا چاہئے بشرطیکہ نام بدلنے کے پیچھے کی سوچ فرقہ پرستانہ نہ ہو۔
ہر ایک شہر کا نام بدلنا ایسے بھی ممکن نہیں کیونکہ ایک شہر کا نام بدلنے پر کروڑوں کا خرچ آتا ہے جو عام لوگوں کا پیسہ ہوتا ہے لیکن کیا تعجب اسے بھی روزگار بڑھانے کا ایک طریقہ بتا دیاجائے۔ اگر ایسے ہی نام بدلنے کا سلسلہ جاری رہا تو کس کس کا نام بدلا جائے گا اور کہاں کہاں بدلا جائے گا کیونکہ تاریخ صرف ہندوستانیوں نے ہی نہیں غیرممالکی لوگوں نے بھی لکھی ہے اور دنیا کی تمام لائبریریوں میں وہ محفوظ بھی ہیں جس میں لکھا ہے کہ تمام ہندو راجائوں نے انگریزوں کے آگے خودسپردگی کرکے اپنے محل بچا لئے جس پر ان کے وارثین آج بھی راج کررہے ہیں اور دوسری جانب نہ صرف مغلوں نے انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ایسی عمارتیں بنوائیں جو آج بھی بھارت کی ایک بڑی آمدنی کا حصہ ہیں، تاج محل اور لال قلعہ اس کی مثال ہیں اب اس کا نام بدل کر کیا رکھیں گے پھر پوری دنیا کی تاریخ میں ان کے بنوانے والوں کے کیا نام لکھیں گے۔
جب مغلوں نے پورے بھارت کو ایک کیا تو اس ملک کا نام کوئی اسلامی نہیں بلکہ ’’ہندوستان‘‘ رکھا حالانکہ اگر وہ اسلامی نام رکھنا چاہتے تو کون تھا جو ان کی مخالفت کرتا۔ مغلوں کے ہی دَور میں رام پور اور سیتاپور بنا اور آج کی ایودھیاجیسی ہے اسے مغلوں نے ہی باقی رکھا۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے جب 1857 ء کے غدر میں انگریزوں کے خلاف مورچہ کھولا تو پورے ملک کے رجواڑوں اور بادشاہوں نے انہیں اپنا لیڈر مانا کیونکہ بہادر شاہ جیسا دل گردہ شاید اس وقت بھی کسی کے پاس نہیں تھا یہ اُن ہی کا کلیجہ تھا جب انگریزوں نے ان کے سامنے کھانے کے تھال میں ان کے بیٹوں کے سر ’پروس ‘دیئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کے سر دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ ’’ہندوستان کے بیٹے ملک کے لئے اپنا سر قربان کرکے اپنے باپ کے سامنے ایسے ہی آیا کرتے ہیں‘‘ بے وقوف تھا بہادر شاہ ظفر جس نے اس بھارت ملک کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اچھا تھا انگریزوں سے تمام راجائوں کی طرح مل جاتا تو محل بھی باقی رہتا اور آج کی سیاست میں وراثت بھی۔





