Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldآغا حشر کا شمیری اور ڈرامہ نگاری

آغا حشر کا شمیری اور ڈرامہ نگاری

mravadhnama@gmail.com 

avadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

پرویز شکوہ

فن ڈرامہ کی بنیاد یونان میں پڑی۔ ڈرامہ دراصل یونانی زبان کے لفظ ڈرائو سے لیا گیاہے۔ جس کے معنی ہیں عمل یا پرفارمنس۔
ڈرامہ عملی زندگی کی عملی تصویر کو دکھاتا ہے اور لفظوں میں گفتار کی متحرک قوت کو نمایاں کرتاہے۔ برصغیر ہندوستان میں ڈرامہ کی شروعات سنسکرت ڈرامہ سے ہوئی۔
سنسکرت یا قدیم ہندی ڈرامہ بنیادی طور پر دیوی دیوتائوں کی داستانوں پر شروع ہوا۔
قدیم ہندی ڈرامہ نگاروں میں کالی داس ،مہارانہ ہرش دیو اور بھوبھوتی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سنسکرت زبان کی قدیم ڈراموں میں کالیداس کی متعدد تخلیقات ہیں لیکن ناٹک شکنتلا کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔
مہاراج ہرش دیو کی تخلیقات میں ناٹک رتنائولی کو بھی بڑی مقبولیت ملی۔
بھوبھوتی کے ڈراموں میں ’’ اتر رام چرتر ‘‘اور مالتی مادھو خاص طور پر قابل تحسین ہیں۔
اودھ شاہی دور میں ۱۳فروری ۱۸۴۷ء تا فروری ۱۸۵۶ء سلطان واجد علی شاہ کے شاہی محل میں فن نقالی،سنگیت، سوانگ، نوٹنکی اور مختلف اصناف کی نظموں وغیرہ کے فنکار باقاعدہ تنخواہ پر شاہی ملازم تھے۔ رقص و سرور کی محفلیں سجتی تھیں۔ بعد میں کرشن جی ،رادھا جی اور گوپیوں کے ناچ گانے کو باقاعدہ اسٹیج پر مختلف انداز میں پیش کیا جانے لگا اور اس کا نام رہس اور لیلا رکھا گیا۔
واجد علی شاہ نے مثنوی ’’افسانۂ عشق‘‘اپنے رہسوں کی طرز پر لکھی اور تمثیل بھی کیا۔اس سے پہلے اردو ڈرامہ کا کوئی نقش نہیں ملتا ہے۔
اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتاہے کہ اردو کے پہلے ڈرامہ نگار سلطان واجد علی شاہ ہی تھے اور اردو ڈرامہ کا پہلا نقش’’افسانہ عشق‘‘ ہے۔
سید امانت لکھنؤی کا منظوم ڈرامہ جو نہایت فصیح اور سلیس اردو کی تخلیق ہے اور کلکتہ ، بمبئی کی تھیڑ یکل کمپنیوں کے نام ضاص طور سے قابل ذکر ہیں جنھوں نے اردو ڈرامے کے فن کو پروان چڑھایا۔
البتہ اس دور کے ڈرامے اسٹیج کے لئے لکھے جاتے تھے اور اکثر منظوم یعنی عوام کے مذاق کی تسکین کے لئے بے تکی تک بندی نما نثر میں ہوتے تھے۔
اردو میں ادبی معنوں میں ڈرامے کا آغاز آغا حشر کاشمیری سے ہوتا ہے۔ ان کے یہاں فن کے مطالبات کی طرف بھرپور توجہ دی گئی ہے اس اعتبار سے اردو ڈرامہ نگاروں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے۔
آغا محمود شاہ حشر ۳؍اپریل۱۸۷۳ء کو گووند پور کلاں ، ناریل بازار، بنارس میں پیدا ہوئے جو نسلاً کشمیری تھے۔ ان کے والد محترم غنی شاہ صاحب جو بسلسلۂ تجارت بنارس آئے اور پھر یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ وہ مذہبی معاملات میں بڑے قدامت پسند تھے۔
آغا حشر نے دینیات کی تعلیم مولوی عبد الصمد سے حاصل کی تھی۔ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ جے نرائنس اسکول بنارس میں طالب علم رہے۔ مدرسے کی تعلیم کے دوران ہی وہ شاعری میں دلچسپی لینے لگے اور ابتدا میں فارسی میں طبع آزمائی کی اور ’’شاہی‘‘تخلص کیا۔ اس کے ساتھ یہ عربی، فارسی اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کی۔
لیکن اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ اردو شعر گوئی کی طرف مائل ہوئے اور حشرؔ تخلص اختیار کیا۔
نمونہ کلام ہدیۂ قارئین ہے:
یاد میں تیری جہاں کو بھولتاجاتا ہوں
بھولنے والے ،کبھی تجھ کو بھی یاد آتاہوں میں
اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
اور روفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلا
بے وفا کہتے ہوئے تجھ کو تو شرماتا ہوں میں
آرزئوں کا شباب اور مر گ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں ،دل کو سمجھاتا ہوںمیں
’’شکریہ یورپ‘‘ بھی ان کی ایک مشہور نظم ہے۔ یہ بے حد مقبول ہوئی۔
اپنی اردو شاعری کی ابتدا میں انہوں نے بنارس کے ایک مقبول عام استاد مرزا محمد حسن فائز سے اصلاح لی۔ اس مضمون میں اس بات کا ذکر بہت ضروری نہیں تاہم از راہ تذکرہ اس کی طرف اشارہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ مرزا محمد حسن بعد میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو فارسی کے صدر ہوئے۔ آغا حشر کے ادبی زندگی کا آغاز شعر وسخن سے ہوا۔ انہوں نے اردو نظمیں بھی لکھیں،غزلیں بھی لکھیں۔
انھوں نے فارسی زبان میں مرثیہ بھی لکھا جو اپنے دوست ڈائریکٹر امرت لال کے انتقال پر سپرد قلم کیا تھا۔ بعد میں وہ مرثیہ رسالہ شیکسپئر میں شائع بھی ہواتھا۔
فارسی زبان میں ہی ان کا ایک استقبالیہ قصیدہ بھی ملتا ہے۔ ان کی خطابت بھی بڑی موثر ہوتی تھی اور ان کا دینی مطالعہ بھی خاصا وسیع تھا۔
یوں تو آغا حشر نے دوسرے اکتسابات فن میں طبع آزمائی کی لیکن ان کے فکر و فن کی جلوہ گری نے انھیں اردو ڈرامہ کی شناخت بنا دیا۔ جو اردو ادب میں ان کی انفرادیت کو نمایاں کرتاہے۔
نصابی کتب میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اور اردو شعر گوئی کی غیر معمولی مصروفیت کی بنا پر آغا حشر تعلیم کے اعلیٰ مدارج طے نہیں کر سکے البتہ قیام بمبئی میں حشر کی دوستی ایک عیسائی خانوادے سے ہوئی۔ نتیجتاً قوی دماغ بے مثل حافظہ کی بنا پر جلد ہی انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل کر لیا۔ یہ ان کے ذاتی شوق کا نتیجہ تھا۔
کچھ ڈرامے دیکھنے کے بعد حشر کے دل میں ڈرامہ نگاری کا خیال پیدا ہواا ور۱۸۹۷ء میں حشر نے اپنا پہلا ڈرامہ ’’آفتاب محبت ‘‘ لکھا۔یہ ڈرامہ جواہر اکبرپریس بنارس سے شائع ہوا اور بہت مقبول ہوا اس وقت آغا حشر کی عمر صرف ۱۸ سال تھی۔
بعد میں قیام ممبئی کے دوران بمبئی کائو س جی پالن جی کھٹائو کی پارسی تھیٹریکل کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ داراصل حشر کی ڈرامہ نگاری کا باقاعدہ آغاز یہیں سے ہوا۔ اس کمپنی کے لئے انہوں نے متعدد ڈرامے لکھے۔ اس کے بعد دیگر تھیڑ یکل کمپنیوں اور اپنی ذاتی کمپنی شیکسپیئر تھیٹریکل کمپنی کے لئے بے شمار ڈرامے لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ حشر نے بعض خاموش فلموں میں اداکاری بھی کی اور ڈرامہ نگاری بھی کی۔
آغا حشر کے اردو ڈراموں میں خواب ہستی (۱۹۰۸ء)،خوبصورت بلا(۱۹۰۹ء)، اسیر حرص(۱۹۰۱ء)مرید مشک(۱۸۹۹ء)شہید ناز(۱۹۰۲ء) سفید خون(۱۹۰۶ء)یہودی کی لڑکی(۱۹۱۱ء) رستم سہراب(۱۹۲۹ء)ترکی حور(۱۹۲۴ء)وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
انھوں نے متعدد ہندی ڈرامے بھی لکھے جن میں سیتا بن باس(۱۹۲۸ء)، بھیشم پرتگیا(۱۹۲۳ء)آنکھ کا نشہ (۱۹۲۴ء) ،مدھرمرلی (۱۹۱۹ء)، بھگیرت گنگا(۱۹۲۰ء) سنسار چکر عرف پہلا پیار(۱۹۲۲ء)وغیرہ بہت مشہور ہوئے۔
آغا حشر کاشمیری پہلے مسلم ڈرامہ نگار ہیں۔ جنھیں بنارس ہندو یونیورسٹی کی جانب سے ہندوستانی تھیڑ کے لئے ان کی ناقابل فراموش خدمات کے لئے طلائی تمغہ بطور ایوارڈ عطا کیاگیا۔
بنگالی زبان میں بھی حشر نے دو ڈرامے ’’ہرکماری‘‘اور ’’اپرادھی‘‘لکھے تھے جو بہت مقبول ہوئے تھے۔(جاری)
حشر کے ڈراموں میں کرداروں کی زبان مقفٰی اور مرصع ہے اور مکالموں کو مزید موثر بنانے کے لئے حشر نے اپنے اشعار کو بھی شامل کیاہے۔
موضوع کے لحاظ سے حشر نے اپنے ڈراموں میں زندگی کے حقائق اور عام معاشرتی مسائل کو نہایت موثر انداز میں پیش کیاہے۔
حشر ایک اچھے اداکاربھی تھے خاموش فلموں میں ان کی اداکاری خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ اپنے بہترین طبع زاد ڈراموں کے تخلیق کار ہونے کے ساتھ وہ ایک بلند پایہ مترجم بھی تھے۔ حشر نے شیکسپیئر اور دیگر غیر ملکی ڈراما نویسوں کے ڈراموں کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ بعض کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ ترجمہ گوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس میں مترجم کو مصنف ذہن سے سوچنا اور اپنے قلم سے لکھنا پڑتا ہے۔ جو آغا حشر کاثمیری نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیاہے۔
ہر زبان کی نثر کا مزاج جداگانہ ہو تاہے۔ اس لئے کسی نثر کی اصل روح کو دوسری زبان میں منتقل کرنا مشکل ہوتاہے لیکن آغا حشر نے اس مشکل مرحلے کو بھی بہ حسن خوبی انجام دیا کہ ان کے بعض ترجمہ کئے ہوئے ڈرامے بھی اردو نثر کی اصل روح معلوم ہوتے ہیں۔ سلور کنگ عرف نیک پروین اردو میں ترجمہ ڈراماخاص طور پر قابل ذکر ہے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آغا حشر ایک بلند پایہ ڈرامہ نگار ہونے کے ساتھ ایک باصلاحیت مترجم بھی تھے۔ ترجمہ کے فن پر بھی انہیں عبور حاصل تھا۔
آغا حشر کے ڈراموں میں خوشگوار تبدیلی ان کے ترجموں سے ہی شروع ہوئی۔
حشر کے یہاں قدامت میں ترقی کی نئی راہیں نظر آتی ہیںاور اس عہد کی پامال روش سے ہٹ کر فنی ارتقا کے اعلیٰ ثبوت ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ڈرامے ادبی حیثیت کے حامل ہیں۔۱۹۳۰ء سے حشر کی علالت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اپنی علالت کے باوجود وہ ڈرامے لکھنے میں مصروف رہے۔۱۹۳۵ء تک ان کی بیماری نے شدت اختیار کر لی۔
حشر کا آخری شعر ہدیہ قارئین ہے:
کھو چکا جوش طاقت پھر ملے دشور ہے
حشر اب صحت مری گرتی ہوئی دیوار ہے
افسوس ۲۸ ؍اپریل ۱۹۳۵ء شام کو چھ بجے اردو زبان اور ادب میں گراں قدر اضافہ کرنے کے والے حشر دنیائے فانی سے عالم جادوانی کو کوش کر گئے اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔لیکن آج بھی ان کے ڈراموں سے ان محنت لگن اور فنکارانہ صلاحیت کی صدائیں آ رہی ہیں۔ ۲۹؍اپریل ۱۹۳۵ء کی صبح حشر میانی صاحب کے قبرستان واقع چار بری لاہور میں ان کی اہلیہ کی قبر کے پہلو میں سپرد خاک کئے گئے۔
ڈرامہ نگاری میں غیر معمولی شہرت کمال حاصل ہونے کی بنا پر ان کا نام اردو ڈرامہ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے منسلک ہو گیااور وہ اردو زبان شکسپیئر کہلائے۔
جب فن فنکار کی پہچان بن جاتاہے تو یہ اسے صدیوں تک زندہ رکھنے کا ضامن ہوتاہے اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ آغا حشر کاشمیری افق ادب کے اس ستارے کانام ہے جس کی روشنی میں اردو ڈرامے کی راہیں ہمیشہ منور ہیں گی۔
پرویز شکوہ
178/44،مقبرۂ جناب عالیہ،گولہ گنج لکھنؤ
رابطہ :7505299219
E-mail:pshikoh@yahoo.com

 

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular