Thursday, February 26, 2026
spot_img

کشمکش

محمد دانش نورالحسن

ریڈنگ ہال میں قدم رکھا تو وہاں کا ماحول دیکھ کر ایک نیا احساس، نئی امنگ اور تازگی ملی، ہر کسی کی نظریں کتابوں پر تھیں، ہر کوئی مستقبل کی فکر لئے محو مطالعہ تھا، ریڈنگ ہال کا منظر دیکھ کر قیامت کا ایک ادنی سا منظر ابھر کر سامنے آیا جہاں کوئی کسی کا نا ہوگا، نہ اہل وعیال کی فکر،نا اپنوں کی فکر نا غیروں کی فکر، غرض کہ تمام رشتے انجانے اور پرائے لگیں گے. اس ماحول کو دیکھ کر سمیر کو دلی سکون ملا، وہ بھی خود غرضی کی دنیا میں قدم رکھ کر مطالعے میں مشغول ہوگیا، پڑھتے پڑھتے کہیں سے چاکلیٹ کی خوشبو ملی اور اچانک اسے یاد آیا کہ آج تو چاکلیٹ ڈے ہے اور مجھے بھی کسی کو تحفہ دینا ہے.
واضح رہے کہ ہر سال فروری آتے ہی محبت کرنے والوں کی عید آجاتی ہے، دل میں ہلچل پیدا ہوجاتی ہے،
عاشق اور معشوق، تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کی قسمیں کھاتے ہیں.
سمیر ابتداء میں اسے ناپسند کرتا تھا لیکن میر وغالب کے شہر میں ان چیزوں سے اجتناب قدرے مشکل ہے اسی وجہ سے سمیر بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس رنگ میں ڈھل گیا، مجھے آج بھی 2015 کی وہ نیلگوں شام رہ رہ کر یاد آتی ہے جب کی بورڈ پر میری انگلیاں شل ہوگئی تھیں اور جمودگی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی جب اچانک سے تبسم کی آس گھولتی آواز کانوں سے ٹکرائی *چاکلیٹ؟*
یہ سن کر میں گھبرا گیا پھر اچانک سے مجھے یاد آیا کہ یہ تو سدا بہار موسم ہے، محبت کرنے والوں کے دن ہیں، سب کچھ انہیں کا ہے. میں نے بھی ہچکچاتے ہوئے کہا، *بھول گیا،* ادھار رہنے دو. یہ میرے لیے پہلا احساس تھا محبت کے مہینے کا، مگر یہ میری محبت نہیں تھی بلکہ اس سے صرف قربت تھی، صرف اس وجہ سے کہ ہم دونوں ہم سبق تھے، باہم ایک دوسرے کے معاون تھے.
وہ دن گزر گیا اور آج جب سمیر کے سامنے ماہ محبت فروری آیا تو ایک بار پھر محبت کے احساسات تازہ ہوگئے، ماضی کے لمحات ذہن میں گردش کرنے لگے، کہ میں نے بھی چاکلیٹ ادھار چھوڑا تھا. لیکن اس نے اس مرتبہ اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ اس. ادھار کی قیمت چکانی ہے لہذا جب سمیر چاکلیٹ خرید کر آہستہ آہستہ لرزتے پیروں کے ساتھ اس کے گھر کا پتہ لئے منزل کی طرف رواں دواں تھا تو ایک ہی خیال بار بار آرہا تھا کہ کیا وہ الفاظ آج ادا ہو سکیں گے جس سے محبت کی ابتداء ہوتی ہے؟اگر ادا بھی ہوگئے تو کیا وہ مان جائے گی؟ کیا سمیر اسے اپنی محبت کا قائل کرسکے گا؟اس طرح کے بہت سے سوالات پیدا ہورہے تھے اور بھی اس طرح کے دیگر سوالوں نے سمیر کے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا. سمیر تمام سوالوں کا جواب خود سے دیتے ہوئے اس کے گھر پہونچا، سلام کرنے کے بعد بیڈ پر بیٹھ گیا، حمیرہ چائے ناشتہ تیار کرنے کچن میں چلی گئی، سمیر چپکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور کچن میں جا پہونچا، اس وقت سمیر کی نظر اس کے ڈریس پر جاکر ٹھہر گئی ، شہر اور گاؤں کے مشترکہ لباس میں ملبوس حمیرہ بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی، فراک جینس اور سر پر دوپٹہ نے اس کی خوبصورتی میں مزید نکھار پیدا کردیا تھا، سیاہی مائل سوٹ اور آسمانی رنگ کے جنس میں وہ اپسرا معلوم ہورہی تھی. نرم ملائم رخسار، بڑی بڑی سیاہی مائل آنکھیں، تیکھے ابرو ، پتلے، گلابی ہونٹ اور گوری رنگت اس کے حسن کو دوبالا کر رہے تھے، اس کی جادوئی ادائیں سمیر کو کچن کی طرف کھینچ لے گئیں،اس کے چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹ تھی جس کی وجہ سے سمیر یکسر اس کی جانب کھنچتا چلا گیا اس ارادے سے بھی تاکہ اس کی گھریلو صلاحیتوں کا جائزہ لے سکے، مگر اس نے سمیر کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ مہمان کا کچن میں آنا مناسب نہیں ہے. گرفتار محبت میں سمیر اس کی ہر بات آسمان پر اٹھانے کو تیار تھا. سمیر چپ چاپ آکر روم میں بیٹھ گیا اور تمام سوالوں کو بالائے طاق رکھ کر اس کے کمرے کا جائزہ لینے لگا، ریک اور الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی تھیں پھر اس کی نظر ایک دوسری الماری پر جاکر ٹھہر گئی جہاں میڈل کا میلہ لگا ہوا تھا، انہیں مشاہدوں کے درمیان اس کی چائے تیار ہوگئی، ٹرے کے ساتھ وہ روم میں داخل ہوئی، چائے ناشتہ کے بعد کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں، سمیر زبان سے کم آنکھوں سے زیادہ باتیں کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں..
ان سب کے باوجود وہ تمام سوالات اب بھی سمیر کی ذہن میں گردش کر رہے تھے جو چاکلیٹ خریدتے وقت اس کی ذہن میں اٹھے تھے، وہ تمام سوال زبان پر آنے کو ترس رہے تھے لیکن زبان اس کہ ادائیگی سے قاصر تھی، وہ الفاظ اس کے غرور تھے، ناز تھے، بالآخر وہ تمام سوال ذہن ہی میں رہ گئے کیونکہ سمیر یہ جسارت نہیں کر پارہا تھا کہ ان الفاظ کو اپنی آنکھوں کے سامنے ٹوٹتا اور بکھرتا ہوا دیکھے.
تھوڑی دیر کے بعد سمیر نے دبے الفاظ کے ساتھ رخصتی کی اجازت مانگی. حمیرہ بھی کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی کیونکہ حمیرہ اپنے والدین کا غرور ہے، وہ ان امیدوں کو توڑنا نہیں چاہتی جو اس کے والدین نے اس سے وابسطہ کر رکھی ہیں، وہ ان تمام توقعات پر کھرا اترنا چاہتی ہے. اس نے بھی جھٹ سے والسلام کہہ کر اجازت دیدی اور خدا حافظ کہہ کر دروازہ بند کر لیا لیکن اس کے دل کا دروازہ اب بھی کھلا ہے مگر وہاں کس کا داخلہ ہوگا؟ کون ہے جو ان شرائط کو پورا کرے گا جس سے اس کا داخلہ متوقع ہوسکتا ہے؟ کیا سمیر ان تمام سوالوں کا جواب بن سکے گا؟ اب اس طرح کے سوالات سمیر کا تعاقب کرنے لگے. سمیر ان تمام سوالات کا بوجھ لے کر وہاں سے روانہ ہوگیا. سمیر پوری طرح سے سوالوں کے گھیرے میں ہے، پوری دنیا اس کے لیے سوال بن چکی ہے اس کا اپنا وجود بھی اک سوال لگنے لگا ہے..

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular