Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldوہ سمجھتا ہے کہ بیمار کا حال اچھا ہے

وہ سمجھتا ہے کہ بیمار کا حال اچھا ہے

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

غلام علی اخضر

میں کیا کہوں اور کیسے کہوں ہوں کہ میرا حال بہتر نہیں ،یہ ظاہری چال اس قدر مست ہے کہ باطن کے سارے مدعا اہل نظر مفکراور ظاہر دہر کے لیے بے معنی ہے،جس بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔حالاں کہ میری حالت اندر سے اس قدر اپاہج و ناتواں جیسی ہے کہ اگر بستر پر لیٹتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں کسی راہ پر پڑا تھا ، جوکنکروں سے بھرا تھا۔ راستے کو راہ گیر کے لیے کہ وہ چلتے میں ٹھوکریں کھاکرنہ گرجائیں ، انھیں تکلیف نہ ہو۔بے رحم سنگ دل جلاد ایک دن ہمالیہ نما تین پہیوں والی گاڑی پر چڑھا،جس کو شاید ’’رولر‘‘کہتے ہیں۔ اس نے مجھے بھی پتھر سمجھ کر رونددیا ، تاکہ راستہ بہتر ہوجائے۔پانی گرم پیتا ہوں گرچہ مزاج کے خلاف ہے ، تاکہ کوئی توجانے کے بے چارے کی طبیعت ناساز ہے، مگر قیامت یہ ہے کہ موسم بھی ایسا ہے کہ میں کیا اچھے اچھے صحت مند ،رستم زمانہ بھی گرم پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ہاں! موسم نے بھی اچھا سلوک کیا ہے۔ ارے یہ کیا! جب میر ی طبیعت نے مجھے سے بے وفائی کی تو کم سے کم تم تو مجھ پر رحم کھاتے، تاکہ میرے ظاہر بیں دوست مجھے گرم پانی پیتے دیکھ کر کچھ رحم کھاتے اور کہتے لاچار کی طبیعت خراب ہے۔ کہتے ہیں نا!جب برا وقت آتا ہے اور زندگی دل دہلانے والی مصیبت کی نذر ہوجاتی ہے تو سب تنہا چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ آسماں جو کبھی ہماری تھوڑی سی آہ پر لرز اْٹھتا تھا آج وہ بھی نہ جانے کس دن کا بدلا لے رہا تھا۔’’خدا جانے‘‘ میں بخار سے کپکپا رہا تھا اور وہ میرا مذاق اڑا کر مزے سے مجھ پر برف جیسے پانی سے رم جھم بارش کررہا تھا۔ جب کہ ہونا تویہ چاہیے تھا کہ وہ اپنے محبت کے جال میں پھنسا کر رکھے ہوئے سورج کے ذریعے مجھ پر تیز دھوپ کی شعائیں بکھیرتا۔ ہواؤں نے جو رویہ اپنایا اس کے بیان کے لیے میرے دہن میں رہنے والے الفاظ کے گلستان کے فلمستان میں وہ جملے نہیں کہ جسے میں درد بھری کہانی بناکر ریلیز کرکے آپ کے فہمستان کے سنیما گھروں تک پہنچا سکوں۔ یہاں تک کہ وہ بھی ساتھ چھوڑ چکی تھی جس نے قسمیں کھاکھا کر ساتوں جنم ساتھ نبھانے کی وعدہ کیا تھا، چھپ چھپ کر رات دن میری محبت کو قیامت تک قائم رہنے کے لیے آنسو بہابہاکر رب سے دعائیں مانگتی تھی،اگر اسے میرے آنے کی آہٹ ہوتی، چاہے وہ مئی جون کی دھوپ سے چھت پر چڑھنے سے پاؤں جل جائے ، کہ دسمبر و جنوری کی بے رحم سردی ہوکہ جس سے پاؤں سْن پڑ جائیں اس کی فکر کیے بغیر اْوپر چلی جاتی اور باربار نگاہِ شوق سے دیکھتی۔ جیسے کہ صدیوں سے میری آمد کی راہ تک رہی ہو۔ جو مجھے پانے کے لیے اپنوں سے دور ہوگئی، جس کے سامنے وصل شب میں کہیں فراق کی بات چھڑ جاتی تو رو رو کر اپنے آپ کو بدحال کر لیتی۔ آج وہ بھی ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ وہ دوست جو میری ہاں میں ہاں ملاتے تھے آج کالج نہ جانے کی وجہ سے جب میں فون پر یہ کہا کہ آپ کالج جارہے ہیں تو فلاں پروفیسر کا اسپیچ ریکارڈ کرلینا وہ کہتے ہیں کہ ریکارڈ کرنے کی کیا ضرورت ہم جو سنیں گے وہ آپ کو سنادیں گے 50 فیصد ہی صحیح۔ اْنھوں نیاس کی فکر نہیں کی کہ اگر میں50 فیصد سناؤں گا تو وہ 30 فیصد تک یاد رکھ پائیں گے تو کتنا بڑا ان کا نقصان ہوگا۔ اے کاش کہ ! وہ ریکارڈ کر کے لاتے تو آج میں بھی 50 فیصد سمجھنے کا حصہ دار ہوتا۔ خیر! مجھ کو کسی سے اس ناگفتہ بہ حالت میں شکوہ و شکایت نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ بیماری مجھے وراثت میں ملی ہے۔کیوں کہ جب میرے والد صاحب کو کبھی بخار وغیرہ ہوجاتا تو ان کے ساتھ ایسا ہوتا کہ جوڑ جوڑ سے درد اٹھتا اورحال دل یوں بیاں کرتے ، بیٹا !اس وقت میں زندہ لاش کی مانند ہوں۔ خدا کا فضل ہے کہ میرے کسی بھائی بہن کے ساتھ یہ بیماری نہیں ،وہ میرے ہی حصے میں آئی۔ جس کی وجہ سے اگر میری صحت میں تھوڑی بھی گربڑی آتی، تو سارے جسم کے جوڑ جوڑ درد کرنے لگتے ہیں ، جس سے میری باطنی حالت میں بے چینی کاطوفان برپا رہتا ہے اور میں ایک صحت مند انسان نظر آتے ہوئے بھی ایک کمزور انسان رہتا ہوں۔ راہ پر چلتے ہوئے اگر کوئی دوست دیکھتا تو ہنس کر کہتا ، ارے! آپ تو بوڑھے کے طرح لگ رہے ہیں ،میں بھی مسکرا کر دوستوں کی دل جوئی کے لیے کہتا،ہاں وقت ایسا آگیا ہے کہ جوان ہو کر بھی بوڑھا سا ہوں۔
کل دوستوں نے فون کیا کہ معلوم ہوا ہے کہ ’’بٹلہ ہاؤس‘‘ میں کہیں لائبریری ہے۔ہم نے کہا ۔۔۔ہے تو۔۔۔ مگر کہاں پر ہے یہ مجھے معلوم نہیں۔ وہ حضرات اسی وقت جاکرپتہ لگانے کے خواہش مند تھے ، جیسا کہ گفتگو کے لب لباب سے ظاہر ہورہا تھا، مگرمیری طرف سے امید کے مطابق جواب نہ ملنے کی وجہ سے کہنے لگے جب آپ کے پاس وقت نکل جائے ، چلیں! میں تو اس وقت خالی تھا مگر میری طبیعت اس قابل نہ تھی کہ ان کی اس ندا پر میں لبیک کہتا۔ ہاں !دوستوں پرظاہر نہ کیا ،کہ میری طبیعت بہتر نہیں،تاکہ انھیں تکلیف نہ ہواور یہ سوچ کر کے3بجے تک کچھ صحیح ہوجاؤں گا ، ان کے ساتھ جانے کا وعدہ کر لیا ، مگر حالت جوں کاتوں رہی اور وعدہ وفا نہ کرسکا۔جب شام کو کچھ اپنے آپ کو پہلے سے بہتر محسوس کیاتو کسی کام کی غرض سے ادھر سے گزرنا ہوا ،جس کے قریب میرے ایک دوست کا ڈیرا پرتا تھا۔ میں نے انھیں فون کیا تو معلوم چلا کہ وہ بھی ادھر ہی کو ابھی ہیں ، ان سے ملاقات ہوئی ، وہ اپنے کمرے میں جانے کو بولے مگر میری ہمت نہ ہوئی کہ زینہ پار کرکے ان کے کمرے تک جا تا،ان کے ساتھ اتفاق سے ایک اوردوست تھے انھوں نے بھی بہت اصرار کیا۔ میں ان کی بات نہ رکھ سکا اس کا مجھے بہت ملال ہوا۔ اور من ہی من میں اپنے پیر میں بیماری کی وجہ سے تھرتھراہٹ پن جاری رہنے سے یہ کہتے کہتے جدا ہوگیا۔ ع
وہ قدم کہاں سے لاؤں جو زینے کے پار ہوتا
7275989646

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular