Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldنظم واپسی کی دعا

نظم واپسی کی دعا

سلمہ حجاب

مرے مالک
مرے خالق
میری بیدار چشمی ہے بڑی قاتل
یہ با خبری ہلاکت خیز ہے اتنی
کہ اب
فکر ونظر میں
ہرطرف خونریز منظر ہیں!
جہان علم میں ہر دن
نئ دہشت نئ وحشت
خبر بن بن کے آتی ہے
ہر اک اخبار کی سرخی
تباہی کے نے پیغام لاتی ہے
مرے احساس کی دنیا میں
ہر سو حشر برپا ہے
مسلسل خوف طاری ہے
کہیں ایسا نہ ہو
میں بھی
کسی دن قتل ہو جاؤں
اور اپنی بے کفن تربت پہ
خود نوحہ پڑھوں
ماتم کروں اپنا
دعا ہے یا الٰہی
اس سے پہلے
تو مری
بے علم ہستی کو جلا دیکر
جہان بے خبر آباد کر پھر سے
کمال آگہی سے پھر
زوال آگہی تک
رہنمائی کر مرے مولیٰ
کہ میں حرف و قلم‌کے ان لہو افشاء فسانوں کو بھلا دوں
اور
جہان بیخبر میں جا بسوں پھر سے
جہاں کو تاہ چشمی
اور بیخبری کی سر شاری
مجھے مدہوش رکھتی تھی
وہ کم علمی کا عالم!
عالم کیف ومسرت
پھر سے لوٹا دے مجھے مولیٰ
تو اس سے قبل
کہ اپنی
صلیب آگہی پر
ایک دن مصلوب ہو جاؤں!

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular