مرزا محمد اشفاق

دانشؔ سید علی احمد زیدی لکھنوی (آل انیسؔ) پیدائش 14 دسمبر 1946 ء سید علی احمد زیدی ولد سید محمد ہادی لائقؔ اُن کے جدبزرگوار جناب سید علی محمد صاحب عارفؔ میر خورشید علی صاحب نفیسؔ کے حقیقی نواسے اور ان کی مسند کے سچے وارث تھے۔ دانش نظم کے ساتھ ہی ساتھ نثرنگاری میں بھی کافی معروف ہیں متعدد علمی ادبی اور تحقیقی مضامین لکھ چکے ہیں اور اس حیثیت سے بھی خوب پہچانے جاتے ہیں ان کے دو نثری مجموعے، عکس زار اور خطوط مشاہیر منظرعام پر آچکے ہیں مضامین کا تیسرا مجموعہ ’ادبی میراث‘ جلد ہی شائع ہونے والا ہے اپنی خاندانی روش کے مطابق مداحیٔ اہل بیت ؑ میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ صرف ایک سلام پر جناب سید سجاد حسین صاحب شدیدؔ سے اصلاح لینے کا موقع مل سکا مرحوم بہت خوش ہوئے اور کہا کچھ کہتے رہو میں اب چراغ سحر ہوں انہوں نے کہا خدا نہ کرے لیکن ہوا وہی جو انہوں نے کہا تھا ان کی رحلت کے بعد سے اپنے چھوٹے بہنوئی جناب تجسسؔ اعجازی سے مشورئہ سخن کرتے ہیں۔ ساتھ ہی عہدحاضر کے بہترین خطاط ہیں 1969 ء سے نیوگورنمنٹ پریس عیش باغ لکھنؤ میں شعبۂ کتابت سے وابستہ ہیں نہایت نستعلیق متین اور متواضع ہیں انسانی ہمدردی کا جذبہ ان کے کردار کی ایک نمایاں خصوصیت ہے ہر بات میں خاندانی رکھ رکھائو نمایاں ہے۔ کوچۂ میر انیسؔ میں اپنے آبائی مکان میں رہتے ہیں۔
میں انیسؔ و اُنسؔ کی آواز ہوں
اور انہیں کا زمزمہ پرداز ہوں
فکر عارفؔ تھی جہاں پر ضوفشاں
اب وہیں میں مائل پرواز ہوں
اُردو کا گلستاں ہے کہ جاگیر انیسؔ
ہے ہرگل خوش رنگ میں تصویر انیسؔ
بازار فصاحت کے خریداروں میں
چلتا ہوا سکہ ہے کہ تقریر انیسؔ
اسلام کی عظمت کو گھٹانے والے
توحید کی رفعت کو چھپانے والے
جب آئیں گے مہدی تو قیامت ہوگی
پچھتائیں گے مسجد کو گرانے والے
ایمان کل ہیں دین کی دولت ہیں مرتضیٰ ؑ
سچ تو یہ ہے کہ حق کی ضرورت ہیں مرتضیٰ ؑ
نام علی ؑ زبان محمدؐ پہ کیوں نہ ہو
حلال مشکلات رسالت ہیں مرتضیٰ ؑ
ان کی رضا پہ چلتے ہیں مہر و مہہ و نجوم
میر نظام شمسی قدرت ہیں مرتضیٰ ؑ
جب حر نے خود کو فدیۂ مولا بنا دیا
بحر کرم نے قطرہ کو دریا بنا دیا
حق سے ملی رسول کو اکملتُ کی سند
حیدرؑ کو جب غدیر میں مولا بنا دیا
یوں نصرت حسین ؑ نے لیں دل میں کروٹیں
عباس ؑ کو علی ؑ کی تمنا بنا دیا
عمامہ رکھ کے سر پہ رسالتمآبؐ کا
فرزند کو رسول سراپا بنا دیا
(تذکرئہ شعرائے اہل بیت ؑ از مرزا محمد اشفاق)





