Saturday, February 28, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldمتاع لوح قلم چھن گئی…

متاع لوح قلم چھن گئی…

mravadhnama@gmail.com 

avadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں

 

تقدیس نقوی

چند دن قبل فلم اینڈ ٹیلیویژن انسٹییٹوٹ اُف انڈیا (FTII) میں اردو کے عظیم ترقی پسند شاعر و مفکر فیض احمد فیض صاحب کی یاد منائ گئ. مگر یہ تقریب کچھ معمول سے مختلف انداز کی تھی. مختلف اس لئے کہ اس موقعہ پرفیض صاحب کی صرف ایک نظم موضوع گفتگو یا تنازع رہی. اس تقریب کی مہمان خصوصی انسٹیٹوٹ کی انتظامیہ رہیکہ جو فیض صاحب کے ادبی مقام سے تو شاید واقف نہ ہو مگرجنھیں انسٹییٹوٹ میں اویزاں فیض کی نظم سے مستعار لئے گئے ایک حصے پر سنگین اعتراض تھا.یہ دیگر بات ہے کہ صرف ایک نظم کے موضوع اورپیغام کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کے عصر حاضر کے نوجوانوں کے اذہان پر انقلابی اثرات مرتب ہونے کی وجوہات کی تہ تک پہنچنے کے لئے معترضین کو بادل نا خواستہ ہی سہی فیض صاحب کا دیگر کلام بھی پڑنا پڑا ہو اور اس طرح از خودFTII میں وقوع پذیر اس بظاہر معمولی واقعہ کے توسط سے پورے ملک میں فیض صاحب کو ایک بار پھر یاد کیا گیا جو کہ انکا حق ہے.
یوں تو اکثرعظیم شعرا و ادباء کو جس شدت سے پس مرگ یاد کیا جاتا رہا ہے اتنا ہی ان عظیم شخصیتوں کو انکی زندگی میں نظرانداز کیا گیا ہے. نہ صرف نظرانداز کیا جاتا رہا ہے بلکہ انکو انکے افکار و تخلیقات کی پاداش میں قید وبندکی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں ہیں .یہ دیگر بات ہے کہ اس قید وبند کی تاریک گوشہ نشینی میں رہکر ہی ان فنکاروں نے ایسی شاہکارتخلیقات کو قلم بند کیا کہ جو ادبی دنیا کے لئے ایک بیش قیمت آثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں .اس ضمن میں دور جدید میں فیض صاحب کا نام سر فہرست ہے.فیض صاحب کی جوانی کا بیشتر حصہ پاکستان میں لاہور حیدرآباد سندھ سرگودھا لائل پور منٹگمری اور کراچی کی جیلوں میں گذرا اور وہیں انکی بہت سی معرکتہ آراء نظمیں اور غزلیں تخلیق ہوئیں. جیسے تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے تمہاری یاد کے جب زخم بھرے لگتے ہیں گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے وغیرہ.انکے مجموعہ کلام زنداں نامہ کی بیشتر نظمیں منٹگمری سنٹرل جیل اور لاہور سنٹرل جیل میں ہی تخلیق ہوئیں تھیں. اسی قیدو بند کے دوران فیض صاحب پر وہ سخت وقت بھی ایا کہ جب ان سے کسی دوست اور عزیز کو ملنے کی بھی اجازت نہ تھی اور نہ ہی وہ کسی سے خط و کتابت کرسکتے تھے اور اسی لئے ان سے قرطاس وقلم بھی چھین لئے گئے تھے جس کا آظہار انھوں نے اپنے ان اشعار کے زریعے کیا ہے :
متاع لوح وقلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
فیض صاحب کی شاعری کسی ایک مخصوص دور یا قوم تک محدود نہیں ہے. انکا مخصوص اسلوب اور سلیس زبان اہل اردو ہی نہیں بلکہ غیر اردو سماج کے ہر اس طبقے کو بھی متاثر کرتا ہے کہ جو انصاف کا متلاشی ہے. اور اسکی بین مثالFTII میں حال ہی میں روپزیر ہونے والا وہ واقعہ ہے کہ جس سے نہ صرف کلام فیض کی عالمگیر مقبولیت اور سحرانگیزی کا پتہ چلتا ہے بلکہانکا کلام موجودہ دور میں ہر طرف پھیلتے ہوئےانتشار اور بے چینی کے سبب وقتا” فوقتا” ظلم و استبداد کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئےلوگوں کے لئے اک انقلابی پرچم کا روپ بھی اختیار کرلیتا ہے.
دراصل ہوا یوں کہ مبینہ طور سےFTII میںکافی عرصے سے وہاں کے طلباء کے آزادانہ آظہار خیال پر روز بروز پابندیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں جس کے ردعمل میں وقتا” فوقتا” طلباء اسکے خلاف اپنی ناراضگی کا مختلف طریقوں سے اظہار کرتے رہتے ہیں. اس بار جب انسٹیٹوٹ کی کینٹین کی نو سازی کی جارہی تھی تو مبینہ طور سے کچھ لوگوں نے کینٹین کی دیواروں پر کچھ آرٹ ورک کیا جس میں کچھ تصویریں اور تحریریں بھی شامل تھی. ایک تحریر ” ہم بھی دیکھیں گے” کہ عنوان سے جو اردو رسم الخط کی جگہہ ہندی رسم الخط میں لکھی گئی تھی فیض صاحب کی اک مشھور نظم سے منسوب کردی گئی یا مستعار لی گئی.انسٹییٹوٹ کی انتظامیہ نے اس کا بہت سخت نوٹس لیا اور دو طلباء کو اس ادبی اشارے کو بے ادبی پر محمول کرتے ہوئےاس کا مورد الزام ٹہرایا جن کا تعلق مبینہ طور سے غیر اردو ریاستوں کیرالہ اور مغربی بنگال سے بتایا جاتا ہے. بہرحالان نقش ونگار بنانے کے پس پردہ نقاش حضرات کی نیت جو کچھ بھی رہی ہومگراس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ چار حرفی عبارت ہم بھی دیکھیں گے فیض صاحب کی مشھور معروف قوالی نما نظم ” سر مقتل ” کا بھی حصہ ہے. اب اس کا سراغ تحقیق کرنے والے ادارے ہی لگا پائیں گے کہ ان نقاشوں نے فیض صاحب کا ہی انتخاب کیوں کیا اور انکے سارے کلام سے اس مخصوص نظم سر مقتل کے ایک ٹکڑے کو ہی اپناسلوگن کیوں بنایا.
اس آرٹسٹک تحریر پرانتظامیہ کے سخت رد عمل سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ پوری دنیا میں ہورہے اس جیسے کسی بھی واقعہ میں فیض صاحب جیسی عظیم انقلابی شخصیتکا رول انکے ہمت افزاء اور پرجوش کلام کے توسط سے ایک رہنما اور میر کارواں کا ہوجاتا ہے. شاید ان تعلیمی اور تدریسی اداروں سے متعلق ان طلباء نے روز بروز بڑھتی ہوئ آزادی اظہار خیال پرعائد کردہ پابندیوں کی بڑھتی تاریکیوں میں فیض صاحب کے کلام کے تابناک خاور سے ہی کرنیں سمیٹی ہوں. ممکن ہے فیض صاحب کے کچھ ایسے اشعار نے ان کے مضمہل دلوں میں امید کی کرن روشن کی ہوں جیسے :
یہی تاریکی تو ہے غازہ رخسار سحر
صبح ہونے ہی کو ہے اے دل بیتاب ٹہر
انسٹییٹوٹ کی انتظامیہ اور اس سے متعلق تحقیقی اداروں نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہوا فیض صاحب کا کلام منگوا کر ضرور پڑھا ہوگا اور کسی معتبر شخص سے تشریح بھی کرائ ہوگی تب ہی تو اس کا رد عمل اتنا سخت ہوا. اس طرح بغیر کسی خاص اہتمام کے فیض صاحب کی یادگار تقریب انسٹییٹوٹ میں از خود منعقد ہوگئی. فیض صاحب ان لوگوں سے بھی متعارف ہوگئے کہ جن کو اردو سے کبھی کوئ مس نہیں رہا.فیض صاحب جیسے عظیم شاعر کی شاعری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ لکھی تو جاتی ہے ایک مخصوص زبان میں لیکن پڑھی اور سمجھی جاتی ہے دنیا کے گوشے گوشے میں.پھیلے ہوئے مختلف زبانوں کو پڑھنے اور لکھنے والوں میں. حق وانصاف کی بات کسی بھی زبان اور کسی بھی اسلوب سے کہی جائیگی تو دل کی گہرائیوں میں خود بخود اترتی جائیگی. بظاہر FTII کا تعلق فنون لطیفہ سے ہے اور وہاں کے ماحول میں ادب اور آرٹ کا بڑا دخل ہوگا مگر اردو زبان کے حوالے سے وہاں کا حال پورے ہندوستان سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا. اب ایسے پس منظر میں کسی اردو شاعر کی کسی مخصوص نظم کے ایک ٹکڑے کو کسی بھی غیر اردو طبقے کا اپنے احتجاج کی علامت بنا لینا اور اس سے خاطر خواہ نتیجہ نکالنا قابل قدر سعی ہے. موجودہ نا مسائد حالات میں امید کی شمع روشن کئے رہنا ہی بڑی جوانمردی ہے. بقول فیض صاحب :
جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جئے جاتے ہیں
سوئے منزل بڑھتے ہوئے اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے قدم ہی ایک دن ایک بڑے کارواں کی شکل اختیار کرلیں گے جس کے جرس محمل کی آوازیں تو اہستہ اہستہ سنائ دینے لگی ہیں بزبان فیض:
ساغر تو کھنکتے ہیں شراب آئے نہ آئے
بادل تو گرجتے ہیں گھٹا برسے نہ برسے
گو کہ یہ واقعہ بذات خودجغرافیائ اعتبار سے ایک بہت محدود دائرے کے اندر وقوع پذیر ہوا اور جس کا ھدف بھی مقامی انتظامیہ رہی ہوگی جس تک ان طلباء کا اپنے آظہار خیال کے حق کے تحفظکے لئے اپنی آواز پہچانا رہا ہوگا جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں ورنہ انتظامیہ کبھی اسکے خلاف کوئ تادیبی کاروائ انجام نہ دیتی مگر اب انکی اؤاز دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکی ہے.
شاید جس طرح ان طلباء کی آزادی تحریر و تقریرپر قدغن لگایا جارہا ہے اور انکی متاع لوح و قلم بھی چھینی جارہی ہے اس لئے فیض صاحب کے ساتھ گزرے واقعات اور ان ہر عائد کردہ اسی طرح کی پابندیوں میں ان لوگوں نے اپنے اوپر گذرے واقعات میں کہیں کوئ مماثلت تلاش کرلی ہو اور انہیں انکے اشعار سے اپنیاوز اٹھانے کی تحریک ملی ہو جیسے:
ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہینگے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہینگے
باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگ لب ور خسار صنم کرتے رہینگے
ہمارے خیال میں طلباء کا مذکورہ نظم کا انتخاب بہت مناسب اور موثر رہا ہے کیونکہ کسی کا بھی اپنی ہر طرح کی ازادی بشمول آزادی آظہار خیال کے لئے اوز اٹھانے کے لئے فیض صاحب کی اس معرکتہ الاراء نظم ‘ سر مقتل’ کے مصرعے ہی بہت کافی ہیں :
چلے ہیں جان و ایماں آزمانے آج دل والے
وہ لائیں لشکر اغیار و آعدا ہم بھی دیکھیں گے
وہ آئیں تو سر مقتل تماشا ہم بھی دیکھیں گے
مکمل نظم ” سر مقتل ” اس طرح ہے:
کہاں ہے منزل راہ تمنا ‘ ہم بھی دیکھیں گے
یہ شب ہم ہر بھی گذرے گی یہ فرداہم بھی دیکھیں گے
ٹہر اے دل جمال روئے زیبا ہم بھی دیکھیں گے
ذرا صیقل تو ہولے تشنگی بارہ گساروں کی
دبا رکھیں گے کب تک جوش صہباء ہم بھئ دیکھیں گے
اٹھا رکھیں گے کب تک جام و مینا ہم بھی دیکھیں گے
صلا آ تو چکے محفل میں اس کوئے ملامت سے
کسے روکے گا شور پند بے جا ہم بھی دیکھیں گے
کسے ہے جاکے لوٹ آنے کا یارا ہم بھی دیکھیں گے
یہ شب کی آخری ساعت گراں کیسی بھی ہو ہمدم
جو اس ساعت میں پنہاں ہے اجالا ہم بھی دیکھیں گے
جو فرق صبح پر چمکے گا تارا ہم بھی دیکھیں گے
اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دور حاضر میں جس طرح آظہا خیال کی آزادی کو منظم طریقے سے صلب کیا جارہا ہے اور آج کل خصوصا” ادبآء شعرا اور حق پسند صحافی اور عوام آیک گھٹن سی محسوس کررہے ہیں اسکا تدارک ایک دو دن میں نہیں کیا جاسکتا مگر بتدریج سعئ پیہم اور استقلال کے زریعے ہر انصاف پسند کو اپنے قدام اگے بڑھاتے رہنا چاہئے اور ملک کے کسی گوشے میں بھی کسی شکل میں کی جانے والی ہر کوشش کی حمایت کرنا چاہئے. راستہ طویل اور کٹھن ضرور ہے مگر نا قابل تسخیر نہیں ہے بقول فیض:
دل ناامیدتو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular