9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
عرفان عابدی غازیپوری
تمام گل سے چلو گلستاں بناتے ہیں
ہم اتحاد کا ایک کارواں بناتے ہیں
شجر کو کاٹ کے فصلِ بہار میں اکثر
یہ باغبان ہی موسم خزاں بناتے ہیں
سیاسیات سے شکوہ بجا ہے غربت کا
گھروندا توڑ کے وہ بستیاں بناتے ہیں
خبر کسی کو نہیں ہے کہ گھائو کیسا ہے
یہ زخم، درد کو ہی رازداں بناتے ہیں
تمہارے شہر میں چین و سکوں کے رستے ہیں
ہمارے گائوں سے یہ دوریاں بناتے ہیں
اسی کے ہجر کے موسم نے آکے مجھ سے کہا
چلو کہ یاد کو نامہ رساں بناتے ہیں
اٹھاکےاوڑھنی ماں کی ذراسی فرصت میں
ہم اپنے سر پہ نیا آسماں بناتے ہیں





