9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

عارفہ مسعود عنبر مراداباد
گلابوں کو کتابو میں چھپایا اب نہیں جاتا
حسیں خوابوں کو پلکوں پر سجایا اب نہيں جاتا
خزاں میں پتیاں بکھری ہوئی پھولوں سے کہتی ہیں
ہمیں گلدان میں کیونکر سجایا اب نہیں جاتا
کبھی موجوں سے لڑتی ہوں کبھی ساحل سے لڑتی ہوں
کنارے دل کی کشتی کو لگایا اب نہيں جاتا
نظر بدلی ہوئی سی دوستوں کی دیکھتی ہوں میں
محبت کو ہی بس دل میں بسایا اب نہی جاتا
ہماری زندگی کے بھی عجب حالات ہیں عنبر
دکھایا اب نہيں جاتاچھپایا اب نہیں جاتا





