غزل
مسرورؔ نظامی
کسی چلتے کو گر رہبر بنانا ہم کو آتا ہے
اسی چلتے کو رستے پر بھی لانا ہم کو آتا ہے
کرامت اور کرشمہ کچھ نہیں بس دست ِ حکمت سے
’’جو قطرہ ہے اسے دریا بنانا ہم کو آتا ہے‘‘
رہے محروم اپنے حق سے ہی بزم سیاست میں
کہاں ظالم کی ہاںمیں ہاں ملانا ہم کو آتاہے
طبیعت میں نہیں اپنی ہنر طنز و ظرافت کا
لب ِ سنجیدہ کو پھر ہنسانا ہم کو آتا ہے
بزرگوں کی دعاوں کے تصدق ہوں وہ جیسے بھی
ہر اک گردش کے پاؤں کو پھر انا ہم کو آتاہے
چراغوں کے تئیں فطرت میں کتنا ہے تضاد اپنی
بجھانا تم کو آتا ہے جلانا ہم کو آتا ہے
ہمارے ضبط پیہم کو کبھی تو آزما کر دیکھ
چنے لوہے کے ائے مشکل چبانا ہم کو آتاہے
ہمارے گھر میں یونہی روشنی رہتی نہیں مسرورؔ
ہواؤں میں چراغوں کو جلانا ہم کو آتا ہے
٭٭٭
نام …شیخ نظام الدین
پیشہ ..معلم گورنمنٹ پی یو کالج گرمٹکال یادگیر
متوطن. . بسواکلیان بیدر ۔حال مقیم. . گرمٹکال یادگیر
فون نمبر. . 9900177498





