شاہد رضی فیضی

عشق/ تجارت
یہ مہر و وفااور عشق و جنوں
سب کل کی پرانی باتیں ہیں
اب عشق محض ہے کھیل یہاں
دل ایک کھلونے جیسا ہے
یاں عشق کے جھوٹے وعدوں پر
جسموں کی تجارت ہوتی ہے
یاں عقل خلافت کرتی ہے
رشتوں کی ذلالت ہوتی ہے
جھوٹی قسموں اور وعدوں سے
پُر لطف فریبی باتوں سے
اغراض کی گہری چادر میں
ہر شخص محبت کرتا ہے
ہر شخص تجارت کرتا ہے
حالاں کہ محبت کچھ بھی نہیں!
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
رانجھا ہیر و لیلیٰ مجنوں
سارے فسانے جھوٹے ہیں
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں
یاں کون محبت کرتا ہے؟
یاں کون کسی کا ہوتا ہے؟
سب اپنے اپنے مطلب سے!
اک دوجے سے وابستہ ہیں
سب اصلی بات چھپاتے ہیں!
اور نقلی چہرہ دِکھاتے ہیں
یہ مہرو وفا اور عشق و جنوں!
سب کل کی پرانی باتیں ہیں
ہر شخص ہوس کی کھیتی میں
رسرچ اسکالر،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی





