Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldسجدۂ شبیری

سجدۂ شبیری

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

تقدیس نقوی

اللہ تعالی کی عبادتوں میں نماز افضل ترین عبادت ہے اور اس عبادت کا کمال اور روح سجدہ ہے. اللہ تعالی نے انسان کو خلق کرنے کے فورا” بعد اپنی مخلوق کو سب سے پہلا حکم سجدہ کرنے کا دیا. انسان کی سر بلندی اگر اس کے فخرو مباہات کی عکاس ہوتی ہے تو سجدہ ریزی اسکی کمال بندگی کا اظہار ہوتی ہے. پیش معبود ایک عبد کا جبین نیاز خم کرنا اس بندہ کی عاجزی اور کمتری کی علامت بن جاتا ہے. اور جب پیش پروردگار کوئ بندہ اپنی جان کی قربانی پیش کررہا ہو تو اس قربانی کو مزید عروج حاصل ہوجاتا ہے کہ جب یہ قربانی حالت سجدہ میں پیش کی جارہی ہو.
معرکہ کربلا کی بظاہر ابتداء رجب سنہ 60ھجری میں یزید کی جانب سے حضرت امام حسین ابن علی علیہ السلام کے سرکی طلبی سے ہوتی ہے اور اسکا بظاہر اختتام امام عالی مقام کے بار گاہ الہی میں عصرعاشورزمین کربلا پرحالت سجدہ میں اپنے سرکا نذرانہ پیش کرکے ہوتا ہے.
ایک جانب امام کا سر طلب کرکے یزید کی کوشش بارگاہ الہی میں قیامت تک کئے جانے والے سجدوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کردینے کی تھی تو دوسری جانب امام حسین علیہ السلام بارگاہ الہی میں حالت سجدہ میں اپنے سرکا نذرانہ پیش کرکے سجدہ الہی کو دوام بخش رہے تھے. ایک طرف سرکا قلم کرنا اگر اپنی کامیابی کی ضمانت سمجھا جا رہا تھا تو دوسری طرف سر کٹانا دین حق کی بقا اور کامیابی کے لئے ضروری تھا.
رجب سنہ 60ھجری میں یزید نے تخت خلافت پر قابض ہوتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اپنے والی مدینہ ولید ابن عقبہ کو ایک خط ارسال کیا جس میں لکھا تھا کی حسین ابن علی ع سے میری بیعت طلب کر اور انکار کی صورت میں انکا سر قلم کرکے میرے پاس دمشق بھیجدے. دراصل یہ یزید کا حکم امام سے انکی بیعت طلب کرنے سے زیادہ انکے سر کو قلم کرنے کے لئے تھا . تاریخ شاہد ہے کہ یزید پہلے سے جانتا تھا کہ آمام حسین ع اسکی بیعت ہرگز نہ کرینگے اس لئے اس نے ایک ہی خط میں بلا تامل اور تاخیر کئے بغیر بیعت طلبی کے ساتھ ہی امام کے سر کو قلم کرنے کا حکم دیدیا. اس امر کی جانب اسکے باپ معاویہ نے اسکو پہلے ہی سے متنبہ کردیا تھا.
چنانچہ جب معاویہ کا وقت اخر قریب آیا تو اس نے یزید کو وصیت کرتے ہوئے اسے ھدایت کی تھی کہ تو تخت خلافت پر بیٹھتے ہی سب سے پہلا کام یہ کرنا کہ چار لوگوں یعنی عبدالرحمن ابن ابوبکر’عبداللہ ابن عمر’ عبداللہ ابن زبیر اور حسین ابن علی ع سے اپنی بیعت طلب کرنا. باقی لوگوں کو تو طاقت کے زریعے زیر کرلینا مگر حسین ابن علی ع تیری بیعت ہر گزنہ کریں گے کیونکہ انکی رگوں میں علی و فاطمہ کا خون دوڑ رہا ہے. باپ کی نصیحت کی روشنی میں اور امام عالی مقام کے کردار سے کافی حد تک واقفیت رکھتے ہوئے یزید بخوبی جانتا تھا کہ امام اسکی بیعت ہرگز نہ کریں گے اسی لئے اس نے اپنے طلب بیعت کے خط میں ایک ہی جملے میں انکے سر کی طلبی کی تھی اور اتنا وقت بھی نہ دیا تھا کہ طلب بیعت کے رد عمل میں امام کے جواب کا انتظار بھی کیا جاتا.
یزید کے اس حکم کے دوسرے حصے سے کہ امام کے انکار کی صورت میں انکا سر قلم کرکے میرے پاس بھیج دینا یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یزید کو ہرحال میں امام کا سرمطلوب تھا اور وہ بھی مدینہ کے دارالامارہ کے ایک تنہا گوشے میں خاموشی کے ساتھ . یزید ہر گز یہ نہیں چاہتا تھا کہ طلب بیعت کا معاملہ مدینہ مں عوام الناس کے سامنے لایا جائے جہاں امام کے جانثاروں کی کوئ کمی نہیں تھی جس کے باعث کہیں اس کی خلافت کی ابتدا ہی میں مدینے میں اسکی کھلے عام مخالفت شروع نہ ہوجائے اور یہ قضیہ طول پکڑ جائے. اپنے فاسق و فاجر اطوار ‘ اپنی شریعت اسلام کی کھلی خلاف ورزی کے خلاف مسلمانوں کی بے حسی اور خاموشی پر نظر رکھتے ہوئے یزید کا دل جانتا تھا کہ اس وقت پورے عالم اسلام میں اسکواگرکوئ للکارسکتا ہے تووہ حسین ابن علی ع کی تنہا ذات ہے. اس لئے اس نے ابتداء ہی سے قتل حسین کا منصوبہ بنا رکھا تھا. کیونکہ یزید علی الاعلان قتل حسین کے نتائج سے واقف تھا اس لئے اس نے پہلے مدینہ میں اور پھر بعد میں مکہ میں اپنے سپاہیوں کو حاجیوں کے بھیس میں بھیج کر امام کو قتل کرانے کی کوشش کی لیکن امام کی حکمت عملی کے سامنے ناکام و نامراد رہا.
اسی لئے یزید نے اپنے حکم نامے میں اسکی جانب اشارہ بھی کردیا تھا لیکن ولید ابن عقبہ والی مدینہ یزید کا اشارہ سمجھتے ہوئے بھی امام کے مدلل مشورے کو رد کرنے کی جرئت نہ کرسکا.
دارالامارہ پہنچنے پر امام اور ولید کے درمیان گفتگو کے نتیجے میں جب ولید نے امام ع کو اگلے دن کی مہلت دی تو اس وقت ولید کے پاس بیٹھے ہوئے مروان بن حکم نے ولید کو ٹوکا کہ وہ امام کو اس وقت واپس جانے نہ دے اور امام کا سر اسی وقت قلم کرکے یزید کو بھجوادے کیونکہ مروان یزید کی نیت اور ارادہ سے بخوبی واقف تھا اور قتل حسین کو مباح اور سیاسی اعتبار سے بہت ضروری سمجھتا تھا جیسا کہ اسکے خود کے اور بعد میں اسکی اولاد کے دور حکومت میں بنی امیہ کے بنی ھاشم کے ساتھ روا سلوک اور دشمنی سے ثابت ہوتا ہے.اس وقت امام حسین علیہ السلام کو یوں دارالامارہ کے گوشہ تنہائ میں قتل کردینا آسان نہ تھا کیونکہ امام اپنے سیاسی تدبر کے سبب پہلے ہی اس کا مناسب دفاعی انتظام کر چکے تھے اور انھوں نے دارالامارہ کے باہر اپنے ھاشمی جانبازوں کو کسی ایسے ہی ممکنہ جارحانہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لئے مستعد کردیا تھا.
دارالامارہ سے بیت الشرف واپس آکر امام نے اپنے اہل خاندان کو یزید کی طلب بیعت سے اگاہ کیا اور اپنا یہ فیصلہ بھی سنادیا کہ وہ تمام اہل خانہ کے ساتھ مدینہ سے فورا” ہی ھجرت کرنے کا ارادہ کرچکے ہیں. سب نے امام کے حکم کی تعمیل میں ھجرت کی تیاری شروع کردی مگر اپ کے چھوٹے بھائی جناب محمد حنفیہ اور دیگر اعزا اور اقرباء نے اصرار کیا کہ امام اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرلیں اور ابھی ھجرت نہ کریں.امام نے فرمایا کہ میں اگر چیونٹی کے بل میں بھی چلا جاؤنگا تو یہ لوگ مجھے ڈھونڈ نکالیں گے. امام کے اس جواب سے ہی آپ کی مستقبل کی حکمت عملی کی وضاحت ہوجاتی ہے. یعنی امام انکار بیعت یزید کے ساتھ اپنی شھادت کے لئے بھی تیارہوچکے تھے. بس اتنا اہتمام کرنا باقی تھا کہ امام اپنے سرکی قربانی دینے سے پہلے فاسق و فاجر یزید کے چہرے پر پڑی ہوئی اسلام کی نقاب تا تار کر ڈالیں اور یہ کام اپ نے میدان کربلا میں روز عاشور بخوبی کرکے دکھا دیا.
امام یزید کی اس ہرکوشش کو ناکام بنادینا چاہتے تھے جس کے زریعہ وہ امام کو تنہائی اور خفیہ طریقے سے کسی بہانے سے قتل کراسکتا تھا تاکہ اس پران کے قتل کا الزام بھی نہ آئے اور امام کو قتل کرنے میں کامیاب بھی ہوجائے. امام اگر ایک جانب یزید سے کھلی جنگ سے گریز کرنا چاہتے تھے تو دوسری جانب اپ کو عیار دشمن کی سازشوں کے نتیجے میں گمنام و پوشیدہ طریقے سے قتل ہونا بھی گوارا نہ تھا .اس جانب سب سے پہلا قدم اپ نے ولید ابن عقبہ کے ساتھ اپنی ملاقات کے وقت اپنے جاں نثاروں کو اپنے ہمراہ لیجا کر اٹھایا تھا. دوسرا اقدام مدینہ سے فورا” ھجرت کرنے کا فیصلہ تھا تاکہ یزید کے حمایتی کسی حیلے بہانے سے مدینہ میں اپ کے قتل کا ارادہ نہ کریں اور حرمت مدینہ زائل نہ ہو. لیکن ساتھ ہی امام پہلے مدینہ اور پھر مکہ سے پوشیدہ اور چھپ چھپاکرفرار نہیں ہورہے تھے بلکہ کچھ ہمدردوں کے اس مشورے کے برعکس کہ اپ غیر معروف راستوں سے اپنے سفر پر جائیے امام نے اپنا سفر عام اور معروف شاہراہ پر ہی جاری رکھا اور اسی طرح اپ ۲ محرم الحرام سن ۶۰ھجری کو میدان کربلاء میں پہنچ گئے.
ورود کربلاء تک امام کا یہ سفر یزید کی دسترس سے فرار نہیں تھا بلکہ اہل کوفہ کی درخواست پر انکی اصلاح اور ھدایت کی خاطر کیا جارہا تھا. راہ میں حر ابن یزید الریاحی کی فوج کی مزاحم ہونے پر امام نے وہاں سے وطن واپس جانے یا ہندوستان کی جانب ھجرت کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا جس کو دشمنوں نے نہیں مانا اور اپ کو مجبوراً” کربلا کے بے اب و گیاہ میدان میں ہی قیام کرنا پڑا.
عصر عاشور جب امام نے اپنے آخری خطبے میں اپنے سامنے کھڑے ہوئے کوفیوں کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ اے لوگوں کیا تم نے مجھے خط لکھ کر یہاں نہیں بلایا تھا کہ ہمیں اپکی ھدایت کی ضرورت ہے تو پھر اب تم میرے قتل پر کیوں یہاں جمع ہوگئے ہو. تو اس وقت یزیدی افواج کے کسی شخص نے بھی جوابا” یہ نہیں کہا کہ ہمارے پاس یزید کی شکل میں اپ سے بہتر روحانی پیشوا اور ھادی موجود ہے اور ہمیں اپکی ھدایت کی ضرورت نہیں ہے. دوسرے اگر یزید خلافت کا اتنا ہی مستحق تھا اوروہ قرآن و سنت پر عمل پیرا تھا تو پھر اسے امام حسین ع کی بیعت کی کیوں اتنی فکر لاحق تھی. مگر یزید جانتا تھا کہ پوری اسلامی سلطنت میں روحانی پیشوا اور ھادی کے طور پر حسین ع سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں ہے تواگر حسین ع اس کی بیعت کرلیں گے تواس طرح اس کی فاسق و فاجر حکومت پر اسلام اور روحانیت کی مہر ایک ایسے روحانی پیشوا کے ہاتھ سے لگ جائیگی کہ جو رسول اسلام کا حقیقی جانشین ہے اور پھر اسے اپنی من مانی اور شریعت اسلامی کی خلاف ورزی کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکے گا اور اگر بیعت نہ کریں گے جس کا سو فیصد امکان تھا تو انھیں قتل کرکے اس رکاوٹ کو ہمیشہ کے لئے دور کردیا جائیگا. امام کا جواب سن کر یزید نے ان کے قتل کی سازش کے جال ہر طرف بچھا دئیے.
یزید کے خواب و خیال میں بھی یہ نہ تھا کہ امام حسین علیہ السلام اتنا طویل اور مشکل سفر طے کرکے بمع اہل وعیال عراق تک پہنچ جائیں گے اور وہاں کربلاء کے میدان میں علی الاعلان اپنی اتنی قلیل فوج کے ساتھ اسکی اتنی بڑی سلطنت کو للکاریں گے. اسکی گھبراہٹ اور خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس نے گنتی کے چند افراد کے مقابل لاکھوں کی فوج امام علیہ السلام کے مقابل بھیجی. نہ صرف یہ کہ اتنی کثیر فوج سے اس مختصر فوج کو اپنے نرغے میں لے لیا بلکہ ہر وہ آنسانیت سے گرا ہوا حربہ استعمال کیا جو کسی ایک بہت بڑی طاقت ور فوج کے خوف سے اسے زیر کرنے کے لئےزمانئہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا. پیاسے بچوں پر ہانی بند کیا گیا اور انکے خیام کے اطراف آگ جلائی گئی.اور یہ سب اس خوف کے باعث کیا گیا کہ جو امام علیہ السلام کے عزم محکم اور جزبئہ قربانی سے پیدا ہوا تھا. یزید اہنے اسی خوف کے باعث یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھا کہ آخر یہ بہتر لوگ اسکی لاکھوں کی افواج کے لئے کیسے خطرہ بن سکتے ہیں. بس اتنا وہ ضرور سمجھ گیا تھا کہ جب کسی کے دل سے موت کا خوف نکل جاتا ہے اور وہ بہرحال اپنے سر کی قربانی دینے کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اسے نہ کوئی کثیر فوج روک سکتی ہے اور نہ ہی کوئی انسانیت سوز ظلم و ستم.
امام حسین علیہ السلام کا مقصد اگر جنگ کرنا ہوتا توکیا اپ صرف بہتر جاں بازوں کے ساتھ میدان میں اترتے؟ اپکے لئے جنگ کرنے کے لئے سب سے بہتر مقام مدینہ یا مکہ ہوتا مگر اپ نے وہاں ٹہرنا پسند نہ کیا. اور صرف یہی نہیں بلکہ جنگ کے ارادے سے میدان میں انے والا کوئی عام فوجی بھی اپنے ہمراہ اپنے اہل وعیال کو کبھی نہیں لے کر آئے گا. امام کا مقصد بارگاہ ایزدی میں اپنی قربانی اس طرح پیش کرنا تھا کہ اپکے قاتل کو دنیا اچھی طرح سے پہچان لے اور تاقیامت پھر کوئ یزید وقت کسی مظلوم سے اپنی بیعت طلب کرنے کی جرئت نہ کرسکے.
کربلاء میں یزید کا مقصد امام حسین ؑ کو قتل کرکے اپنی فاسق وفاجرحکومت کو صرف استحکام دینا ہی نہ تھا بلکہ انکے قتل سے اپنے آباواجداد کہ جو جنگ بدر و حنین میں حضرت علی مرتضی ع کی تلوار سے مارے گئے تھے ان کا انتقام بھی لینا تھا ورنہ کیا وجہ تھی کہ جب دمشق میں سرامام اس کے سامنے لایا گیا تو وہ اسکو فورا” ہی اسلامی شریعت کے مطابق دفن کرادیتا جبکہ اسکا اپنی دانست میں امام حسین کو قتل کرنے کا مقصد پہلے ہی حاصل ہوچکا تھا مگر اس نے اسلامی شریعت کے تمام قوانین اور احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپکے سراور دندان مبارک سے نہ صرف گستاخی کی بلکہ اپنے اس انتقام کے پورا ہونے کی خوشی میں اشعار بھی پڑھے. تاریخ کا ایک یہی واقعہ یزید کے فاسق وفاجر ثابت کرنے کے لئے کافی ہے اور امام حسین ع کی شھادت عظمی کے مقصد کے حصول کی شھادت بھی.
روزعاشور امام کے طریقہ دفاع اور حالت اضطرار و مصیبت میں بھی انسانیت کی اعلئ اقدارکا تحفظ کرتے ہوئے کوئ بھی ایسا قدم نہ اٹھانے سے امام نے یہ ثابت کردیا تھا کہ انکا مقصد جنگ نہیں بلکہ اصلاح امت مسلمہ تھا. اسی لئے عصرعاشور اپ تن تنہا زخموں سے چور اپنا دفاع کرتے ہوئے جب فوج یزید کو ذوالفقار حیدری کے جوہر دکھارہے تھے توفوج اشقیاء فرار اختیار کررہی تھی اور کسی ایک میں بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ امام کے سامنے آکر لڑ سکے. اور پھر اپنے نانا سے کئے گئے وعدہ کو نبھاتے ہوئے ذوالفقار کو واپس نیام میں رکھ لیا تاکہ دشمن دیکھ لے کہ حسین خود اپنی سر کی قربانی دینے کے لئے تیار ہورہے ہیں. ہاں ظالموں نے اپنی بزدلی کا ثبوت اس طرح ضرور دیا کہ جس کے ہاتھ میں پتھر آیا اس نے پتھر سے زخمی کیا اور تیر اندازوں نے تیر برسائے. امام گھوڑے سے زمین پر تشریف لائے. شمر بن جوشن اپکے قتل کے ارادے سے اگے بڑھا. امام نے اس سے نماز عص پڑھنے کے مہلت مانگی اور پھر وہ نماز ادا کی کہ جس کے وسیلے سے آج بھی پوری دنیا میں حئی الصلاتہ کی صدا گونج رہی ہے.
جانشین رسول نے آخری سجدہ میں اپنی پیشانی رکھی اور پھر سر نہ آٹھایا کیونکہ اب اپکا سر نیزے پر بلند کیا جارہا تھا گویا دشمن کی شکست فاش کا اعلان ہورہا تھا اور دین اسلام کامیاب اور کامران ہورہا تھا. بقولے:
اسلام کے دامن میں بس اسکے سوا کیا ہے
اک ضرب ید الہی ایک سجدئے شبیری
٭٭٭

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular