Friday, April 3, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldرشید حسن خاں۔بحیثیت محقق و مدون

رشید حسن خاں۔بحیثیت محقق و مدون

प्ले स्टोर से डाउनलोड करे
 AVADHNAMA NEWS APPjoin us-9918956492—————–
अवधनामा के साथ आप भी रहे अपडेट हमे लाइक करे फेसबुक पर और फॉलो करे ट्विटर पर साथ ही हमारे वीडियो के लिए यूट्यूब पर हमारा चैनल avadhnama सब्स्क्राइब करना न भूले अपना सुझाव हमे नीचे कमेंट बॉक्स में दे सकते है|

 

 محمدارشد

   تحقیق و تدوین کا ایک وسیع میدان ہے۔ بے شمار موضوع ایسے ہیں کہ جن پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔انسان مسلسل تحقیق کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔تحقیق جاندار اور بے جان چیزوں پر بھی کی جاتی ہے۔آج کا انسان مادی اور روحانی اشیاء پر بھی تحقیق کر رہا ہے۔ادبی تحقیق میں کسی فن پارے کے متعلق یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ اس فن پارے کی سیاسی ،سماجی ، تاریخی، تہذیبی،لسانی ، و ادبی حیثیت کیا ہے۔کسی بھی تدوین نگار کے اندر تحقیقی و تنقیدی شعور کا ہونا ضروری ہے۔اس کے بغیر مدون تحقیق کا حق ادا نہیں کر سکتا۔کیوں کہ تدوین متن میں فن پارے کے تمام تر جزئیات پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔علاوہ ازیں مصنف کی دیگر تصانیف کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔کہ وہ تحریر سماج کے کس معاشرے کی نمائندگی کر رہی ہے۔اور وہ سماج پر کس درجہ اثر انداز ہو سکتی ہے۔تدوین نگار کو اس تصنیف کے تاریخی پس منظر کا پتا لگانا بھی ضروری ہے۔کہ یہ معلوم سکے کہ یہ تصنیف کس پس منظرمیں لکھی گئی ہے۔مزید یہ کہ وہ کون سے عناصر تھے کہ جنھوں نے مصنف کو لکھنے کے لیے ابھارا۔اور کن کن مسائل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔علا ازیں اس فن پارے نے ادب میں کیا اضافہ کیا۔اس تحریر کی وجہ سے کن کن فن پاروں کا وجود عمل میں آیا۔اس کے علاوہ مدون کو متن میں در پیش دیگر مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔کبھی کبھی ایک لفظ کی کھوج کے لیے مہینوں اور برسوں لگ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ مدون کے لیے عربی و فارسی کا عالم بھی ہونا ضروری ہے، کیوں کہ اکثر تذکروں اور مخطوطوں میںعربی اور فارسی زبان کے الفاظ کثیر تعداد میں استعمال کیے گئے ہیں۔اردو ادب میں تحقیق و تدوین کے راستے بہت پر خار ہیں۔جن راستوں کو بہت کم لوگوں نے اختیار کیا۔اور جولوگ اس راستے پر نکل پڑے وہ مسلسل سفر کرتے رہے۔جن کے نام اردو ادب میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہیںگے۔جن میں سید احمد خان ،مولوی عبدالحق،حافظ محمود شیرانی،قاضی عبدالودود، تنویر احمد علوی، امتیاز علی خان عرشی، اور اردو ادب کے دیگر محقق مدون کہ جنھوںنے اردو ادب میں تحقیق و تدوین کے سلسلے میں گراں خدمات انجام دیں۔جن میں رشید حسن خان صاحب کا نام قابل ذکر ہے۔رشید حسن خاں اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے ۔اور وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔اور اعلی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اپنی تمام تر زندگی تحقیق و تدوین میں صرف کردی۔انھوںنے اپنی تمام تر خواہشوں اوراپنے خاندانی رشتوں کو بھی تحقیق پر قربان کر دیا۔بہت سے امراض میں لاحق ہوتے ہوئے بھی انھوں نے تحقیق و تدوین کا کام جاری رکھا۔رشید حسن خاں نے اپنی تحقیقی زندگی کا آغا ز کب کیا یہ بات آج تک آشکا ر نہ ہو سکی ۔وہ  ۶اگست ۱۹۵۹ کو دہلی یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئے تھے۔اور اپنے آخری وقت یعنی ۲۶ فروری ۲۰۰۶ تک تحقیق تدوین میں مسلسل کام کرتے رہے۔ ان کی خواہش تھی کہ آنے والی نسلیں ان کی تدوین کردہ کتابوں سے مستفید ہوں، اور وہ ان سے متأثر ہوکر تحقیق و تدوین کی روایت کو آگے بڑھائیں۔رشید حسن خاں کی تحقیقی تداوین جدید تدوینی اصولوں پر مبنی ہوتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کے کلاسکی مدون خاں صاحب کوگیان چند جین نے ’’ خدائے تدوین ‘‘ کہا ہے۔رشیدحسن خاں کو تحقیق و تدوین کا اس درجہ شوق تھا،کہ وہ جس شہر میں جاتے تھے سب سے پہلے وہ اس شہر کے کتب خانوں کا دورہ کرتے تھے۔وہ ان کے کیٹ لاگ دیکھتے ،قدیم نسخوں کے اندراج نوٹ کرتے، اور وقت ضرورت مختلف کتابوں سے عبارتیں نقل کرتے تھے۔وہ جب بھی کسی دوست کو خط لکھتے تھے تو اس میں بھی کتابوں کے تعلق سے کچھ نہ کچھ ضرور رقم کرتے تھے ، اور اسی طرح اپنی تلاش و جستجو جاری رکھتے تھے ۔۹ اکتوبر۱۹۲۲ میں گیان چند صاحب کو ایک خط میں لکھتے ہیں۔’’ مکرمی آدابمیں نے اب گلزار نسیم کاکام شروع کر دیا ہے ۔آپ نے ’’ نثری داستانیں ‘‘ میںلکھا ہے کہ مذہب عشق اردو نثر میں گل بکائو لی کے دو نسخوں میں سے ایک ہے ۔(ص ۳۵۴) دوسرا نسخہ کون سا ہے؟کیا اس مثنوی کے سلسلے میں کوئی اور ایسی چیز آپکے پاس ہے جو میرے کا م کی ہو۔۔۔۔۔کیا مذہب عشق کا مجلس ترقی والا ایڈیشن آپکے پاس ہے؟ اگر ہو تو اس کی مجھے ضرورت پڑے گی۔کام کے مکمل ہوتے ہی باحتیاط واپس کردیا جائے گا۔ہاں یہ بات ضرور پیش نظر رہے کہ میں تیزی سے کام نہیں کر پاتا ہوں، اور آہستہ خرام کرتا ہوں ۔‘‘ (رشید حسن خاں کے خطوط مرتب ڈاکٹر ٹی آر ،رینا ص ۷۹۵ ۔ ۲۰۱۱)رشید حسن خاں کا تحقیق و تدوین سے ربط و صلا حیت کا اندازہ ان کی تدوین وترتیب کردہ کتب سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی تداوین میں مصطلاحات ٹھگی، فسانۂ عجائب، باغ وبہار، مثنوی گلزار نسیم، مثنویات شوق، اور کلیات جعفر زٹلی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مزید انتخاب کلام ناسخ،انتخاب نظیرؔ اکبر آبادی، انتخاب شبلیؔ،انتخاب مراثی انیسؔودبیرؔ، دیوان خواجہ میر دردؔ، اور انتخاب سوداؔ شائع کیے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کا متن کافی ضخیم ہے۔اور ان کے مقدمات معلو مات کا ذخیرہ ہیں۔نیز ہر متن میں ضمیمے ، فرہنگ،اور اشاریے شامل ہیں ۔ جن کے مقدمات میں اصل متن کے متعلق ضروری معلومات کو فراہم کیا گیا ہے۔جن میں بنیادی متن کے خطی، مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نسخے ہیں،اور یہ تمام نسخے کہاں کہاں سے حاصل کیے گئے ، مزید ان کی سن طباعت،اور ان شخصیات کا ذکرجنھوں نے نسخے فراہم کرنے میں مدد کی، اور مصنف کی دیگر تصانیف جو تدوین میں مددگار ثابت ہوئیں،ان تما م چیزوں کا ذکر رشید حسن خاں نے اپنے مقدموں میں کیا ہے۔رشید حسن خان نے جو تدوین متن پر کام کیاہے اس کا مختصر جائزہ دیکھیں۔ فسانۂ عجائبرشید حسن خاں نے اپنے تدوینی کام کی ابتداباغ و بہار سے کی تھی۔لیکن باغ و بہار کی ترتیب سے ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ اس لیے انھوں نے باغ و بہار کے کام کو درمیان میں ہی روک دیا۔ ان کی تدوینی شہکاروں میں سب سے پہلے فسانۂ عجائب کی اشاعت ہوئی ۔فسانۂ عجائب مرتب کرنے میں انھیں آٹھ سال سے بھی زائد وقت لگا۔جس میں ایک طویل مقدمہ، سات ضمیمے ،تین ابواب فرہنگ ،اور آخرمیں اشاریے درج ہیں۔جسکی اشاعت ہندوستان و پاکستان میںایک ساتھ ۱۹۹۰ میں ہوئی۔باغ و بہارمیر امن ؔ کی باغ و بہار کی تدوین میںخاں صاحب کو بیس برس سے بھی زیادہ وقت لگا۔جس سے ان کی تحقیق و تدوین میں دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں کوئی دیگر محقق کسی تحقیق میں اتنی طویل مدت تک دلچسپی نہیں لے سکتا۔باغ و بہار ہندوستان و پاکستان میں ۱۹۹۲ میں شائع ہوئی۔گلزار نسیمدیا شنکر نسیم کی ’’ گلزار نسیم ‘‘ رشید حسن خاں سے پہلے بھی کئی حضرات نے مرتب کی ۔ لیکن انھوں نے ترتیب کے تقاضوں کا لحاظ نہیں رکھا۔خان صاحب نے جملہ تدوینی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بھی ثبوتوں کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ یہ مثنوی نسیمؔ کی طبع زاد نہیں ہے۔اور یہ مثنوی ۱۹۵۵ میں انجمن ترقی اردو سے شائع ہوئی۔سحرالبیانمیر حسن کی مثنوی  ’’ سحرالبیان ‘‘ کو خان صاحب نے ۱۹۹۶ میں لکھنا شروع کیا۔اور ۱۹۹۹ میں مکمل کیا ،جو انجمن ترقی اردو نئی دہلی سے۲۰۰۰ میں شائع ہوئی ۔مصطلاحات ٹھگیاس نسخے کو رشید حسن خاں نے آصفیہ لائبریری حیدرآباد سے دریافت کیا تھا۔ٹھگ ایک قوم تھی۔جس میں ہندو اور مسلمان دونوں ہوتے تھے ۔ ان کی اپنی ایک خاص زبان تھی ۔ لیکن ٹھگوںکو ان کے برے کارناموں کی وجہ سے نظر انداز کر دیا گیا۔ رشید حسن خاں کو اس کام کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑی، کیوں کہ اس طرح کے مواد کو جمع کرنا ایک مشکل امر تھا۔نیز لوگ ٹھگوں کے متعلق جانتے ہی نہیں تھے، کہ اس طرح کی کوئی قوم بھی ہندوستان میں سکونت پزیر تھی۔یہ نسخہ بیس سال کی طویل مدت میں مکمل ہوا۔اور ۲۰۰۲ میں انجمن ترقی اردو گھر اور راؤز ایو نیونئی دہلی سے شائع ہوا۔مثنویات شوقمثنویات شوق میں شوق کی تین مثنویاں ہیں۔زہر عشق ، فریب عشق ، اور بہار عشق ۔رشید حسن خاں نے مثنویات شوق پر مکمل تحقیق کی ۔ نول کشور سے شائع شدہ ایڈیشن میں ان تینوں مثنویوں کے علاوہ ’’ لذت عشق ‘‘بھی شامل تھی۔ لیکن خاں صاحب نے تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ یہ مثنوی شوق کی نہیں ہے۔مثنویات شوق کی تحقیق میں جب کبھی خاں صاحب کو کوئی مسئلہ در پیش آتا تھاتو فورا اس کی تحقیق کرتے تھے ۔یہاں تک کہ اگر کسی لفظ کے معنی میں بھی تردد ہوتا تھا،تو فورا دوستوں کے پاس لکھ کر اس کی تصدیق کرتے تھے۔ایک جگہ نیّر مسعود سے ایک خط کے ذریعے دریافت کرتے ہیں۔’’ اب داستان غم میں ( حسب معمول )  ’’ صنحک ‘‘ کا لفظ ایک جگہ آیا ہے اس سے تو میں واقف ہوں ، لیکن بس یوں ہی سا، میں نے یہ سنا تھا کہ مرد اس میں شرکت نہیں کر سکتے۔مگر موئلف ’’ نوراللغات ‘‘ نے اس لفظ کے میر علی اوسط رشک کی ایک عبارت نقل کی ہے، اس کے آخری حصے نے مجھے مبتلائے وہم کر دیا ہے۔‘‘ ( رشید حسن خاں محقق ومدون، ڈاکٹر ،ٹی ، آر رینا، ص ۳۲۵ ، ۲۰۱۵)رشید حسن خاں کو مثنویات شوق مرتب کرنے کا ارادہ  اس لئے بنا کی وہ لکھنوی زبان سے حد درجہ متأثر تھے۔مثنویات شوق میں لکھتے ہیں۔’’ زبان لکھنئو کی نفاست اور لطافت کی جیسی آئینہ داری یہ مثنویاں کرتی ہیں ، وہ بات دوسروں کے یہاں اس انداز سے نظر نہیں آتی۔لکھنوی تہذیب کی نرمی اور لوچ ان مثنویوں کی زبان میں سماں گیا ہے۔ زبان خواتین کا ریشمی پن اشعار میں جھلک رہا ہے۔اور بیان کی لطافت اشعار سے چھلکی پڑتی ہے۔‘‘ ( مقدمۂ مثنویات شوق، رشید حسن خاں، ص ۷ ، ۱۹۹۸)اپنی بات کو مزید تقویت بخشنے کے لیے خاں صاحب مثنویات شوق کی اہمیت پر مولانا عبدالماجد دریا بادی کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں۔لکھتے ہیں۔’’ محاورات پر یہ عبور ، بیگمات کے روز مرہ  پر یہ قدرت،زبان کی یہ صحت،بیان کی یہ سلاست ،جذبات نگاری کی یہ قوت،ہر شاعر کے نصیب میں نہیں آتی۔‘‘  ( ایضاص ، ۳۲)خان صاحب نے اپنی تحقیق میںمرزا تصدق حسین کے سوانحی حالات کو بھی تلاش کرنے کی چنداں کوشش کی لیکن اس کوشش میں وہ کامیا ب نہ ہو سکے۔بس اتنا معلوم ہو سکا کہ ان کا پورا نام ’’ تصدق حسین خاں‘‘ عرفیت ’’ نواب مرزا‘‘ اور نواب مرزا شوق لکھنوی کے نام سے شہرت پائی۔ اور  خاندانی روایت سے طبیب تھے۔رشید حسن خاں کی تحقیق میں ان مثنویوں کے عنوان کسی قدیم نسخے میں نہیں ہیں۔خاں صاحب نے مثنویات شوق کی تدوین ۱۹۹۵ میں شروع کی ، اور ۱۹۹۷ میں یہ کام مکمل ہوگیا۔ اور ۱۹۹۸ میں انجمن ترقی اردو کے ذریعے منظر عام پر آئیں۔کلیات جعفر زٹلیمیر جعفر زٹلی اردو کاوہ پہلا شاعر تھا، کہ جس نے حکومت وقت کے خلاف احتجاجی نعرہ  بلند کیا۔جس کی وجہ سے ۱۹۱۳ میں فرخ سیر نے اس کا قتل کرا دیا ۔ اردو ادب میں اگر احتجاجی شعراکا ذکر کیا جائے تو میر جعفر زٹلی اور مولوی محمد باقر سر فہرست ہیںکہ جنھوں نے اپنے عہد کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جس کے نتیجے میں دونوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑا۔میر جعفر زٹلی کے احوال زندگی کسی تذکرے میں نہیں ملتے ، کہ وہ کب اور کہاں پیدا ہوئے، اور کن حالات میں انھوں نے زندگی بسر کی۔کچھ محققوں نے جعفر کے وطن کے بارے میں لکھا ہے۔لیکن خان صاحب نے ان کے غیر محققانہ قول کو رد کردیا ہے۔کہتے ہیں یہ باتیں انھوں نے قیاسا کہی ہیں۔جو غیر قابل قبو ل ہیں۔رشید حسن خاں کی تحقیق کے مطابق جعفر ولیؔ کے دیوان کی آمد سے ۳۵  برس پہلے ہی اپنا دیوان مکمل کر چکے تھے۔مزید خان صاحب نے جعفر کے تعلق سے بہت پردے اٹھائے ہیںاور ان کے حالات و شاعری سے متعلق بھی گفتگو کی ہے۔رشید حسن خاں پہلے محقق ہیں جنھوں نے جعفر کو گہرائی سے پڑھا۔اور جعفر کے کلام میں زبان و بیان کا رنگ،اور اس کے کلام کی علمی ، لسانی ،وتہذیبی ،اہمیت کا بغور مطالعہ کیا۔خان صاحب کا ماننا ہے کہ جعفر کا کلام شمالی ہند میں اردو کے ارتقاء میں ایک اہم حصہ ہے۔جس میں ریختہ کی ابتدائی مثالیںموجود ہیں، اور لفظیات کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے کہ جس سے قطع نظر نہیں کی جا سکتی۔مزید یہ کہ خان صاحب نے ثبوتوں کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے، کہ جعفر زٹلی نے اپنا دیوان مرتب کیا تھا، اور اس کا نام ’’ زٹل نامہ ‘‘ رکھا تھا۔اس سلسلے میں خان صاحب ایک عبارت نقل کرتے ہیں۔’’ بہ عرض رسید کہ میر جعفر زٹلی شاعر و مصنف زٹلی نامہ بے کار نشستہ، باحروف الفاظ لا یعنی مشغول می باشدفرمونندٹھالابینا پیلڑ تولے‘‘۔( اندراج نمبر ۴۹)بحوالہ رشید حسن خاں محقق و مدون،ڈاکٹر ٹی، ٓر ، رینا)رشید حسن خاں نے۹ برس کی طویل مدت میں اس کلیات کو تدوین کیا، کلیات کے آخر میں تین ضمیمے ہیں، پہلے میں مشکوک کلام، دوسرے میں الحاقی کلام، اور تیسرے میںلفظیات درج ہیں۔۲۰۰۲ میں یہ کتاب انجمن ترقی اردو دہلی سے شائع ہوئی۔انتخاب کلام ناسخناسخ کی زبان میں لکھنؤکے اثرات نمایاں ہیں۔ناسخ نے اپنے معاشرے کا اثرقبول کیا ، اور اپنی شاعری میں ایسا اسلوب اختیار کیا، کہ جو نہ تو لکھنؤمیں تھا اور نہ ہی دہلی میں۔ناسخ کے حالات زندگی کے بارے میں رشید حسن خاں لکھتے ہیں، کہ نام  ’’ امام بخش ‘‘ تھا۔ تخلص ’’ ناسخ ‘‘ اور باپ کا نام ’’ عبداللہ ‘‘ تھا۔اور تاریخ پیدائش کے سلسلے میں تردد تھا اس لئے اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔رشید حسن خاں نے تدوین انتخاب میں بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔جس میں انھوں نے ۱۲۷ صفحات پر مشتمل ایک طویل مقدمہ لکھا ہے۔اور اس عہد کے لکھنؤ و دہلی کی شاعری کا احاطہ کیا ہے۔نیز ناسخ سے قبل اور بعد کے دبستان پر بھی روشنی ڈالی ہے۔خان صاحب نے جو مقدمہ لکھا ہے اس کی اہمیت سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔اتنا معلوماتی مقدمہ شاید ہی کسی شاعر کے انتخاب میں ہو۔یہ انتخاب ۱۹۷۲ میں جامعہ مکتبہ لمیٹیڈ سے شائع ہوا۔اس طرح رشید حسن خاں نے اپنی زندگی کا وافر حصہ تحقیق و تدوین یعنی اردو ادب کی خدمت کرنے میں گزاردیا۔تحقیق و تدوین کے لئے خان صاحب کے اپنے اصول تھے۔جنھیں وہ خود پر لازم تصور کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ خان صاحب اپنی تدوین کے آخری متن کو ہمیشہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔وہ کبھی بھی اپنے فرصت کے اوقات ضائع نہیں کرتے تھے۔جب بھی ایک کام سے فارغ ہوتے تھے دوسرے کام میں مصروف ہو جاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا تداوین کی ضخامت اتنی زیادہ ہے کہ اسے تحقیق و تدوین کا ایک دبستان کہا جاسکتا ہے۔رشید حسن خاں کو تحقیق و تدوین کے ذریعے اردو ادب کی گراں خدمات انجام دینے پر اردو دنیا انھیں تا دیر یاد رکھے گی۔کتابیاترشید حسن خاں کے خطوط مرتب ڈاکٹر ٹی آر ،رینا  اردو بک ریویو ۔ ۲۰۱۱مقدمۂ مثنویات شوق، رشید حسن خاں انجمن ترقی اردو ہند نئی دہلی، ۱۹۹۸ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ ، رشید حسن خان اتر پردیش اردو اکادمی ۲۰۰۵آزادی سے قبل اردو تحقیق، ڈاکٹر محمداکمل خان، ایم آر پبلیکیشنز نئی دہلی رشید حسن خاں محقق و مدون، ڈاکٹر ٹی آر ،رینا، اردو بک ریویو نئی دہلی، ریسرچ اسکالر: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، لکھنؤ کیمپس

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular