9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

تقدیس نقوی
( پٹرول کی موجودہ بڑھتی ہوئی قیمتوں پر طنزیہ مضمون)
میر صاحب کی بس اک یہی خصوصیت ہمیں انکا گردیدہ بنائے ہوئے ہے کہ وہ مشکل ترین آور انتہائ نا مسائد حالات میں سے بھی ایک ماہر سیاستداں کی طرح کوئی نہ کوئی مثبت اور امید افزاء پہلو نکال ہی لیتے ہیں. اب آج کل روز بروز آسمان سے چھوتی ہوئی پٹرول کیقیمت کو ہی لے لیجئے. انکا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں دن بہ دن اضافہ سے ہر گز گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہی تو ملک میں ہورہی ترقی کا صحیح پیمانہ ہے.ان کا ماننا ہے کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئیقیمت دراصل پورے ملک کے لئے اک قدرتی نعمت مخفی ہے. اس خوش آئند صورت حال سے ملکی معیشیت’ صحت عامہ’ ماحولیات’سماجی برابری اور ثقافت اور دیگرشعبوں میں جو مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید ہے انکا شمار کرنا مشکل ہے.
موصوف کا کہنا ہے کہ ان کے اس خیال کو اس وقت مزید تقویت ملی جب حال ہی میں پٹرول منسٹر صاحب نے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئ قیمت کا حکومت سے کوئ لینا دینا نہیں ہے تاکہ عوام حکومت سے کوئ بے جا امیدنہ لگا بیٹھیں جو انکی ہمیشہ سے عادت رہی ہے.منسٹر صاحب کی اس دیانت دارانہ وضاحت نے عوام کو مزید ڈپریشن میں جانے سے بچالیا یعنی جو کچھ اس بابت کرنا ہے وہ یا تو مالکان پٹرول پمپ کریں گے یا پھر خود عوام ہی. مالکان پٹرول پمپ نے جو کچھ کرنا تھا وہ کررہے ہیں بس اب عوام کی باری ہے.
ہمارے استفسار پر میر صاحب نے پٹرول کی قیمت میں اس تاریخی آضافہ سے ملک کی معیشیت کو ہونے والے فوائد گنواتے ہوئے فرمایا کہ جناب سب سے پہلے تو اسکا معاشی فائدہ یہ ہوگا کہ جب ان فلک بوس قیمتوں کے باعث عوام پٹرول خریدنے سے عاجز ہوجائینگے تو حکومت کوپٹرول برآمد کرنے کے لئےمہنگے ڈالر مہیا کرانے کی فکر سے خود بخود فراغت ہوجائیگی اور زر مبادلہ کے خزانے محفوظ ہوجائینگے. دوسری جانب عوام کے پٹرول جیسے فضول اخراجات میں کمی کے باعث انکی ماہانہ بچت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا. جیسا کہ آج کل پٹرول پمپ پر روزانہ گرتی ہوئی فروخت سے اندازہ ہورہا ہے.
اس بیان پر ہم نے میر صاحب کو مطلع کیا کہگو ہم اس بات کے بذات خود تو گواہ نہیں ہیں کیونکہ ہم نے تو پٹرول اسٹیشن جانا اس وقت ہی ترک کردیا تھا کہ جب پٹرول کی فی لیٹر قیمت ہماری روزانہ آمدنی سے چار گنا زیادہ ہوگئ تھی اس لئے ہم یہ تو نہیں بتا سکتے کہ پٹرول پمپ والے آج کل وہاں انے والوں کی کس طرح خاطر و تواضح کررہے ہیں مگر یہ ضرور اطلاع ہےکہ لوگوں کی بھیڑ اسی طرح علی الصبح وہاں آتی ہے جس طرح چند مہینے پہلے آتی تھی. بس فرق یہ ہوا ہے کہ پہلے لوگ پٹرول لیکر واپس جاتے تھے مگر آج کل شام تک انتظار کرنے کے بعد خالی ہاتھ ہی گھر واپس چلے جاتے ہیں. سنا ہے انکا روزانہ کا یہ انتظار انکی ایک موہوم سی امید کے سبب ہوتا ہے کہ شاید دن بھر میں کسی وقت قیمت میں کچھ پیسوں کی ہی گراوٹ آجائے.اس پر میر صاحب نے ایک زور دار قہقہ لگایا آور ہمارے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کچھ اس طرح ہمیں سمجھانے لگے کہ گویا کہہ رہے ہوں کہ تم عوام ہمیشہ سیدھے سادھے بدھو ہی بنے رہوگے. فرمانے لگے کہ جناب یہ پٹرول پمپوں پر بھیڑ اس لئے جمع ہوتی ہے کہ پٹرول پمپ چلانے والی کمپنیاں اس بات سے پریشان ہیں کہ یہ قیمت جیسے ہی سو روپئے فی لیٹر سے تجاوز کریگی پمپ کا میٹر زیروکا ھندسہ دکھانے لگیگا. اسی لئے وہ آج کل ایسے انجنیروں کی تلاش میں ہیں کہ جو چند دن کے اندر فوری طور سے پٹرول بھرنے والے پمپوں کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹ کرسکیں . کیونکہ فی الحال ان پمپوں کے میٹروں میں صرف سو روپے فی لیٹر قیمت سے نیچے کی قیمتوں کی ہی گنجائش ہے جب کہ یہ قیمت چند دن کے اندر ہی سو روپئے فی لیٹر سے تجاوز کرنے والی ہے .اور اگر اس سسٹم کو نئی قیمتوں کے مطابق فورا” ایڈجسٹ نہ کیا گیا تو وہ پمپ زیرو قیمت پر ہی پٹرول دینے لگیں گے جو کہ تمام صارفین کے لئے ایک خوش آئند خبر ہے. لوگ اس انتظار میں قطار در قطار کھڑے ہیں کہ کب قیمت سو روپئے سے تجاوز کرے اور کب ان کو پٹرول زیرو قیمت پر ملنے لگے.اسی لئی اب لوگ پٹرول پمپ پر پیٹرول خریدنے سے زیادہ اس لئے جارہے ہیں کہ یہ دیکھ سکیں کہ پمپ کا میٹر کب 99.99 کا ہندسہ کراس کرکے زیرو ہوجاتا ہے . جب سے یہ خبر عام ہوئی ہے عوام میں آک خوشی کی لہر سی دوڑ گئی ہے اور لوگ بے چینی سے اس سنہرے وقت کا انتظار کررہے ہیں.
پچھلے چند مہینوں سے یوں بھی لوگ اب شاذ و نادر ہی پٹرول پمپ کی طرف جانے کی ہمت کررہے ہیں . اور جو جیالے نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس موصلی میں سر دے بھی رہے ہیں تووہ نامراد ؤنا کامیاب خالی ہاتھ ہی واپس لوٹ رہے ہیں کیونکہ وہ جتنے پیسے لیکر جاتے ہیں وہ گھر سے چلتے وقت کے پٹرول کے ریٹ کے مطابق ہوتے ہیں اور جب تک وہ پٹرول پمپ کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں تو تب تک پیٹرول کی قیمت آسمان چھو رہی ہوتی ہے اور انکے پاس اس قیمت کو ادا کرنے کے لئے مزید پیسے نہیں ہوتے. اس لئے وہ خالی ہاتھ ہی گھر واپس آکر خوش ہوجاتے ییں اور اپنی حکومت کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جس کے مرہون منت وہ کچھ پیسے پس انداز کرسکے.
ہم نے میر صاحب سے ہوچھا کہآخر غریب عوام بے چارے یہ بوجھ کس طرح آٹھا پائیں گے تو وہ بڑےمشفقانہ لہجے میں گویا ہوئے کہ بالکل اسی طرح کہ جس طرح ماضی میں انھوں نے تیس روپئے والا پٹرول ساٹھ روپئے میں خرید کر اطمینان کا سانس لیا تھا. یوں بھی متاع پٹرول اب عام آدمی کے استعمال کی شئے نہیں رہ گئی ہے اس لئے عوام کو اب اسکی بڑھتی قیمت سے کوئ سروکار نہیں ہونا چاہئے. انکا کام صرف ووٹ دیکر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا ہے سو وہ کرتے رہیں. جب ان کے منتخب نمائندوں کو ہی اس آضافے سے کوئی پریشانی نہیں ہورہی تو پھرعوام اپنا جی کیوں ہلکان کریں. میر صاحب کی بات معقول تھی.
قیمتوں کے اضافے کے ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہونے کہ توجیح بیان کرتے ہوئے میر صاحب نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سےملک کے ماحولیاتی نظام پر صحتمند اثر پڑ رہا ہے کیونکہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی یعنی نہ تیل میسر ہوگا نہ گاڑی چلے گی اور نہ دھوئیں سے ماحول زہریلا ہوگا.اس طرح بڑھتی ماحولیاتی کثافت کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد ملے گی. بلکہ عوام کی صحت عامہ کے لئے بھی یہ ایک قدرت کی جانب سے عطیہ ہے کیونکہ وہ لوگ جواب تک جسمانی طور سے فٹ رہنے کے لئے ایر کنڈیشنڈ کمروں میں یا کلبوں میں محدود رہکر ہزاروں روپئے خرچ کرکے ٹریڈ مل چلا کر اپنا پسینہ نکالتے تھے انھیں اب کھلی فضا میں مفت میں سائیکل چلانے کا موقعہ ملے گا اور انکا پسینہ کیا تیل تک نکل جائیگا کہ جو ہمیشہ سے اک صحتمند عمل تصور کیا جاتا رہا ہے. یعنی کم خرچ سائیکل نشین. بہت جلد ہمارا ملک بھی ان امیر ملکوں میں گنا جانا لگیگا کہ جہاں کا پرائم منسٹر بھی ماحولیات کے تحفظ کی خاطراپنے افس سائیکل چلا کر آتا ہے.انسانی ایجادات میں سائیکل ہی ایک ایسی منفرد ایجاد ہے کہ جس نے انسان کا کڑے سے کڑے وقت اور ناہموار راستوں پر یک سوئیسے ہمیشہ ساتھ دیا ہے. انسان نے بھی اس پر سوار ہوکر ترقی کی راہ پر پھر کبھی پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا. ویسے بھی سائیکل چلاتے ہوئے پیچھے مڑ کردیکھنا نا عاقبت اندیشیاور نتائج سے بے خبری تصور کی جاتی ہے اور جن لوگوں نے ایسا کرنے کی کبھی ناسمجھی کی بھی تو پھر وہ زندگی میں کچھ اورکرنے کے قابل نہ رہے.
ماہران ماحولیات اور صحت عامہ کا یہ خیالاور قوی امید بھی ہے کہ اگر اسی رفتار سے ملک میں پٹرول کی قیمت بڑھتی رہی تو بہت جلد ہمارا ملک دنیا کےصحتمند اور امیر ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہو جائیگا جس کی دو بنیادی وجوہات ہیں. اولا” تو عنقریب پٹرول جیسی شئے خریدنا صاحب حیثیت لوگوں تککے اختیار سے باہر ہوجائیگا اور اس طرح گاڑیوں اور موٹر سائکلوں پر سفرکرنابہت جلد داستان ماضی کا حصہ بن جائیگا اور لوگ کاریں اور موٹرسائیکلیں صرف عجائب گھروں ہی میں دیکھنے کے لئے جایا کریں گے . جس کا اک یہ مثبت اور صحتمند اثر ہوگا کہ لوگ صاف اور تازہ ہوا میں سانس لے سکیں گے جسکی ہمارے ملک کو بہت عرصے سے اشد ضرورت رہی ہے. دوئم پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا بالواسطہ اثر اشیاء خوردونوش پربھی لا محالہ پڑیگا جس کے باعث عوام اپنے غذائیات کے بجٹ پر کمی کرنے پر مجبور ہونگے اور آس طرح بغیر کسی مہنگے ڈائٹنگ پلان کے خریدے ہوئے لوگوں کا وزن خود بخود کم ہونے لگیگا جس سے بہت سے مہلک امراض جیسے امراض قلب اور ڈائبٹیزکا خود بخود گھر بیٹھےعلاج ہوجائیگا .یعنی بغیر ہلدی و پھٹکری لگے لوگوں کا رنگ چوکھا نکل ائیگا.
ہم نے میر صاحب کی ان فکر انگیز توجیحاتسے متاثر ہوتے ہوئے اتنا ضرور دریافت کیا کہ حضوران مذکورہ فوائد کو حاصل کرنے کے لئے اور ملک میں اس کے رد عمل میں تبدیلی آتے آتے کچھ وقت تو ضرور درکار ہوگا . تب تک عوام اس عظیم بار گراں کو کس طرح اٹھا پائیں گے اور کیا حکومت کی اس سلسلے میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے. ہم نے سنا ہے کہ لوگدولہا والوں کی مانگ پراب اپنی لڑکیوں کی شادی میں جہیز میں کاروں اور موٹر سائیکلوں کی جگہہ صرف پٹرول بھرے کنسٹر ہی دے رہے ہیں. کیونکہ انکا کہنا ہے کہ پٹرول کی موجودہ بڑھتی ہوئ قیمتوں کے پیش نظر کاروں اور موٹرسائیکلوں کی تو کچھ عرصے بعد کوڑیوں کے دام ملنے کی امید بندھ بھی رہی ہے مگر پٹرول خریدنے کی کسی میں نہ استطاعت باقی رہی ہے اور نہ ہی ہمت. ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ مالی پریشانیوں اور قرضوں سے گھبراکر پٹرول چھڑک کر ہونے والی خود کشیوں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے کیونکہ مقروض کا یہ ماننا ہے کہ جتنی رقم میں پٹرول خریدا جائے گا ان پیسوں سے تو اسکا قرض ادا ہوسکتا ہے. یہ بھی اطلاع ہے کہ لوگ آج کل تقریبات میںپرفیوم کو تحائف کے طور پر دینے کی جگہہ پٹرول بھری شیشیاں دے رہے ہیں اور لوگ ایسی تقریبات میں پٹرول کی موہوم سی خوشبو سونگھنے کی غرض سے ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کر تھکے جارہے ہیں. اگر یہی حالات رہے توبہت جلد پٹرول اسٹیشنوں پر جانا روئسا اور صاحب حیثیت حضرات کا شعار مانا جانے لگیگا اور پٹرول پمپ کی وزٹ کرنا ایک ‘اسٹیٹس سمبل’ مانا جانے گا. لوگ کریڈٹ کارڈ کی جگہہ اپنے’پٹرول چارج’ کارڈ دکھا کر اپنے حسدیائے دوستوں اورعزیزوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرنے لگیں گے.
حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے میر صاحب نے بتایا کہ اس صورت حال کے مد نظر حکومت مفاد عامہ کے لئے بہت سے اقدام اٹھائے کا ارادہ رکھتی ہے.مثلا” ہر پٹرول پمپ پر اے ٹی ایم کے علاوہ بنک کا ایک بوتھ کھولا جائیگا. جسکا مقصد عوام کو پٹرول خریدنے کے لئے مناسب انٹرسٹاور آسان قسطوں پر فوری قرض مہیا کرانا ہوگا جس طرح گھر خریدنے یا شادی بیاہ کے لئے مہیا کرایا جاتا ہے.
ہمارے اس سوال پر کہ اخر اس اتنے بڑے بحران کو حل کرنے میں کتنا وقت اور درکار ہوگا تو انھوں نے زیر لب مسکراتے ہوئے اہستہ سے کہا :” بس چند مہینوں کی بات ہے” .
ہم نے خوش ہوکر پوچھا تو کیا چند مہینوں میں پٹرول کی قیمت دوبارہ اپنے پرانے نرخ پر واپس آجآئیگی. میر صاحب نے ہمارا کندھا تھپتپھاتے ہوئے ہمیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا:
” نہیں. چند مہینوں میں عوام کو اس نئی قیمت کی عادت پڑ جائیگی اور پھر راوی چین ہی چین لکھے گا”
※※※※※※※※※※※※※※※※※





