9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

تقدیس نقوی
لفظ ظن اردو زبان میں عربی زبان سے ماخوذ ہے جہا ں اس کے عام معنی کچھ گمان ‘فرض ‘فکر خیال کرنے یا اندازہ لگانے کے ہوتے ہیں. اسی لئے جب کسی کے بارے میں کسی کا حسن ظن رکھنا کہا جاتا ہے تو اس سے مراد کسی کے بارے میں اچھا اور نیک خیال اور فکر رکھنا ہوتا ہے. ظن کے اس معنی کی بنیاد پراور عربی میں سوء کے معنی برائ ہونے کے سبب اس کی ضد “سوء ظن” سے مراد کسی کے بارے میں برا یا ناپسندیدہ گمان خیال یا فکر رکھنا مانا جاتا ہے. دونوں صورتوں میں کیونکہ یہ انسانی فکر اور تصور سے متعلق ایک کیفیت ہوتی ہے اس لئے علم اخلاق میں کسی انسان کا ہر کسی کے بارے میں نیک اور اچھا تصور رکھنا ایک نیک اور صحتمند انسانی عادت مانی جاتی ہے جبکہ کسی کے بارے میں سوء ظن یعنی بلا سبب برا گمان یا خیال رکھنا ایک انسانی عیب اور برائ تصور کیا جاتا ہے.
اس کیفیت کے انسان کی روز مرہ زندگی پر مرتب ہونے والے مثبت یا منفی اثرات کی سماجی اوراجتماعی اہمیت اس لئے بھی بہت بڑھ جاتی ہے کہ عمومی طور سے کسی بھی انسان کے علم میں اس سے متعلق لوگوں کے کردار اور شخصیت کے بارے میں ہر وقت کبھی بھی مکمل معلومات موجود نہیں ہوتی ہیں. اگر کچھ حد تک کچھ معلومات موجود ہوتی بھی ہیں تو وہ یا تو ناقص اور جانبدار ہوتی ہیں اور یا کسی غیر مصدقہ مفروضے کی بنیاد پر مہیا کی جاتی ہیں. اس لئے ان ناقص اور غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر کسی کی شخصیت کے بارے میں نیک خیال رکھنا ہی سب سے بہتر عمل اوراعلی اخلاقی قدر تصور کی جائیگی جو کہ نہ صرف آپسی سماجی تعلقات کو استوار اور مظبوط بنانے کے لئے ناگزیر ہے بلکہ سماجی زندگی میں رد شر اور فساد کے طور پر بھی بہت اہم ہے. اور یہ مثبت انسانی فکر ہمیشہ خیر ہی ہر منتج ہوتی ہے. اس لئے اسے جزو ایمان قرار دیا گیا اور اسکی ضد کو اک گناہ. بلا سبب کسی کے بارے میں سوء ظن رکھنے سے اجتناب کرنا اور اکثر حسن ظن سے کام لینا نیکیوں کی ترغیب دلانے کا سبب بنتا ہے. دراصل حسن ظن حسن عمل کا پیش خیمہ کہا جاسکتا ہے. کسی کے بارے میں نیک خیال رکھنے سے ہی اس کے ساتھ نیک عمل کرنا ممکن ہوتا ہے ورنہ کسی ایک شخص یا سماج کے کسی طبقے کے متعلق سوء ظن رکھتے ہوئے کبھی بھی اسکے ساتھ کسی نیک عمل کی توقع نہیں کی جاسکتی. اس رجحان کے عام ہونے سے ایک اور مثبت نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ایک جانب سے کسی کے متعلق نیک خیالات کا اظہار کیا جائیگا تو وہ شخص اس نیک گمان کا مان رکھتے ہوے اپنی پوری کوشش کریگا کہ وہ اس کے متصورمعیار سے نیچے نہ گرے. اسی کی متعلق امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے نصیحت فرمائ ہے کہ:
اگر کسی کو تمہارے بارے میں حسن ظن ہو تو اسکے خیال کو سچ کرکے دکھاؤ یعنی اسکی توقعات پر پورے اترنے کی کوشش کرو
سماج کے ہر فرد کا یہی مثبت رجحان positivity سماج کی تعمیر کی راہ میں آج بھی اک انقلاب لا سکتا ہے جسکے لئے الگ سے کسی بڑی تحریک کی ضرورت نہیں ہے صرف انفرادی فکر کو ایک مثبت جہت مل جانا ہی کافی ہے . اس کے لئے کسی مخصوص ٹریننگ کورس یا کسی ‘ آرٹ اُف لیونگ ‘ کی ورکشاپ پر پیسہ ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے. ایک بار کہیں شمع روشن ہوگئی تو پھر سماج کے ہر طبقے میں شمع سے شمع روشن ہوتی چلی جائیگی. یہاں ایک یہ نفسیاتی پہلو کارفرما ہوتا کہ ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی بھی جگہ اس کا ذکر لوگ برائ کے ساتھ نہ کریں .تو اگر وہ خود کسی کو برائی کے ساتھ یاد کریگا تو کس طرح یہ توقع کرسکتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی اسے اچھائ کے ساتھ یاد کریں گے. اسی پہلو کی جانب امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے ایک مقام پر اپنی ایک نصیحت کے زریعے توجہ دلائ ہے. فرماتے ہیں:
دوسرے کی غیر موجودگی میں ذکر خیر کرو کہ تمہاری غیر حاضری میں تمہارا تذکرہ اچھے لفظوں میں ہوگا
اس کے برخلاف اسی ناقص معلومات کی بناء پر کسی کے بارے میں سوء ظن یا برا یا نا پسندیدہ تصور رکھنا اس متعلقہ شخص کے ساتھ سراسر نا انصافی ہوگی. مزید یہ کہ اس شخص کو اس کے اوپر لگائے گئے یا اسکے متعلق تصور کئے گئے الزامات کی صفائ اور دفاع کے لئے کوئ موقعہ بھی فراہم نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ یکطرفہ اور فوری فیصلہ ہوتا ہے. اسی نا انصافی کی بنیاد ہر اس عمل کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی سختی سے ممانعت کی گئ ہے.
اکثر مواقع پر کسی کا کسی کے بارے میں سوء ظن قائم کرنا انسان کی تین بنیادی ناپسندیدہ خصلتوں اوربری عادات کے سبب ہی ہوتا ہے .پہلی عجلت پسندی اور بے صبری ‘ دوسری کسی کے عیوب تلاش کرنے کے لئے تجسس کرنا اورتیسری کسی کی غیبت یا اسکے پس پشت اسکی برائ کرنا . انسان کے ان عیوب کی جانب قران کریم نے انسان کو تنبیہ فرمائ ہے. عجلت پسندی انسان کی سرشت میں ہےجس کا کا ذکر اللہ تعالی قران کریم میں سورہ بنی اسرائیل(الاسراء) آیت نمبر ۱۱ میں اس طرح کرتا ہے :
: “و کان الانسان عجولا” ترجمہ (کہ انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے)
بے صبری انسان کی جبلت کا حصہ ہے اور اپنی اسی فطرت کے سبب وہ ہمیشہ کسی بھی دوسرے شخص کے متعلق کوئ غلط گمان اور برا خیال قائم کرنے میں عجلت کرتا ہے. بھلے ہی بعد میں اپنے اس عیب کی خاطر اسے سماج میں شرمندگی اور خفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے. اس عجلت میں وہ کسی کے بارے میں سنی سنائی باتوں اور غائرانہ طور سے دیکھے ہوئے کچھ واقعات کی بناء پر بغیر کچھ تحقیق کئے ہوئے برا گمان کرنے لگتا ہے. اکثر معاملات میں تھوڑا توقف کرنے اور وقت گزرنے کے بعد اگر ان معلومات پر مزید غور کیا جاتا ہے تو نتیجہ اسکے برعکس نکلتا ہے اور انسان کو اپنے عجلت میں کئے گئے فیصلے پر شرمندگی ہوتی ہے. اب اگرکوئ شخص کسی دوسرے شخص کو کبھی کسی شراب خانے سے نکلتا ہوا دیکھے یا کسی مشھور شرابی کے ساتھ کہیں بیٹھا ہوا دیکھ لے توکیا وہ بلا تحقیق اور دیگر شواہد اکٹھا کئے ہوئے یہ گمان کرنے میں حق بجانب ہوگا کہ وہ شخص بھی شراب پیتا ہے اور اب اسکے ساتھ بھی معاملات ایک فاسق شخص کی طرح ہی ہونے چاہئے. ممکن ہے کچھ توقف کرنے کے بعد اور مزید تحقیق کرنے سے یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ شراب خانے میں اپنے کسی پیشہ ورانہ کام جیسے بجلی اے سی وغیرہ ٹھیک کرنے کے سلسلے میں اندر گیا تھا یا وہ اس شرابی کے ساتھ کچھ ضروری معلومات حاصل کرنے کی غرض سے وہاں گیا تھا نہ کہ شراب پینے کے لئے. اسی طرح اگر کوئ شخص کسی پبلک پلیس پر کسی کا کوئ بیگ غلطی سے اٹھاکر اس لئے چل دے کہ وہ بیگ اسکے اپنے بیگ سے بہت زیادہ مشابہ تھا تو کیا اسے بیگ چور مانا جانا چاہئےاور اسکا ڈھنڈورا پوری دنیا میں پیٹ دینا چاہئے کہ وہ شخص چور ہے.
اس سلسلے میں کسی ایک خاص سماجی طبقے گروپ لسانی یا مذھبی برادری کے متعلق برسوں سے چلے آرہے ایک عام تاثر یا stigmaکی بنیاد پر اس طبقے سے متعلق کسی بھی شخص کے بارے میں بغیر کسی شھادت کے وہی مخصوص سوء ظن رکھنا اک عام سی بات ہے جبکہ یہ تصور کسی طرح بھی جائز اور حق بجانب نہیں مانا جاسکتا. سوء ظن اکثر غیر مدلل ہوتا ہے. اب اگر سماج کے کسی طبقے کے بارے میں یہ عام تصور ہے کہ وہ جھوٹے اور مکار ہوتے ہیں تو اب ایسے کسی شخص کو دیکھ کر کہ جو اس طبقے یا برادری سے تعلق رکھتا ہے بغیر اسکے ساتھ کوئ معاملہ کئے ہوئے یا اس کے متعلق کوئ تحقیق کئے ہوئے یہ گمان کرنا کہ وہ بھی جھوٹا اور مکار ہے اسکے ساتھ کتنی نا انصافی ہوگی .اسی لئے اس طرح سوء ظن رکھنا ایک گناہ ہی مانا جائیگا.
کسی کے بارے میں سوء ظن رکھنے کی ممانعت صریح الفاظ میں اللہ تعالی نے قران کریم میں کردی ہے جہاں انسان کی اس بری عادت کو اک گناہ قرار دیا گیا ہے. چنانچہ سورہ الحجرات کی آیت نمبر 12میں ارشاد ہورہا ہے :
“یا ایھا الذین آمنو اجتنبوا کثیرا” من الظن ان بعض الظن اثم”
ترجمہ : (اے ایمان والوں بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو بعض گمان گناہ ہوتے ہیں)
یوں بھی جس فعل کی اللہ نے ممانعت فرمادی اسکا انجام دینا یقیناً” گناہ کے درجہ ہی میں آئےگا.
انسان کی دوعادتوں یعنی کسی شخص میں عیوب تلاش کرنے کی غرض سے اسکے معاملات میں غیر ضروری تجسس کرنا یا ٹوہ لینا اور دوسری کسی کی غیبت یا پس پشت اسکی برائیاں کرنا کی اللہ تعالی نے سخت ممانعت فرمائی ہے کیونکہ ان دو برائیوں کے سبب ہی انسان عموما” دوسرے لوگوں کے بارے میں برا گمان رکھنے لگتا ہے. ان کے متعلق ارشاد ہورہا ہے :
” ولا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضا”
ترجمہ : اور ( کسی کے عیبوں اور رازوں کو جاننے کے لئے ) تجسس نہ کرو اور تم سے کوئ کسی کی غیبت نہ کرے.
اللہ تعالی نے اسی آئیہ کریمہ میں انسان کی اس خصلت کو گھناؤنی قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ :
” ایحب احد کم ان یا کل لحم اخییہ میتا” فکرھتموہ و اتقواللہ ان اللہ تواب رحیم ”
ترجمہ ( تم میں سے کوئ شخص پسند کریگا کہ وہ اپنے مردہ بھائ کا گوشت کھائے. یقیناً تمہیں اس سے کراہت آتی ہے تو اللہ سے ڈرو کہ اللہ بیشک بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے)
غیبت کرنے والوں کے متعلق امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ” غیبت عاجز کی آخری کوشش ہے کہ اس کا بس نہیں چلتا تو عیوب ہی بیان کردو
عصر حاضر میں روز مرہ رو پزیر ہونے والے واقعات جن کے سبب سماجی انتشار بے چینی عدم اعتماد اور باہمی نفرت و عناد دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے اگر ان کا بغور تجزیہ کیا جائے تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ دیگر اسباب کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر بڑھتے ہوئے سوء ظن کے بے لگام رجحانات بھی اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں.
زرائع ابلاغ کی بڑھتی سرعت رفتار اور تحفظ حقوق انسانی کے نام پر اختیار کی جارہی ازادی نے اس رجحان کی ہر سو پھیلتی جنگل کی اس آگ پر گویا تیل چھڑکنے کا کام انجام دیا ہے. سوشل میڈیا کی ‘نعمت سے پہلے کسی ایک شخص کا کسی دوسرے کے متعلق برا گمان رکھنا ایک محدود حلقے کو متاثر کرتا تھا اور اسکے سماج پر محدود منفی اثرات مرتب ہوتے تھے. مگر جیسے جیسے سوشل میڈیا کے توسط سے یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے ایک کسی شخص یا چند اشخاص کا کچھ جھوٹی خبروں اور ذاتی تصاویر کی بنیاد ہر کسی کے متعلق اپنے سوء ظن کا آظہار اور اسکا منفی اثر لا محدود ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں نفرتوں کی آگ دنیا کے کونے کونے میں چند لمحوں میں پھیل جاتی ہے. آج کل کسی بھی عوامی شخصیت کی کسی بھی ذاتی بات کو لیکر جو ‘ٹرولنگ کا فتنہ کھڑا کیا جاتا ہے اس سے کسی شخص کی بھی کردار کشی چشم ذدن میں بہ اسانی بغیر کسی روک ٹوک کے کی جاسکتی ہے. اور اس تمام خرافات کی ایک ہی بنیادی وجہ کہی جاسکتی کہ بے بنیاد معلومات کی کثرت کے باعث سچ اور جھوٹ میں تفریق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے.
کسی میں عیوب تلاش کرنے کی غرض سے جستجو کرنا اور غیبت کرنا یہ ایسی مہلک برائیاں ہیں کہ اگر ان کے تدارک کے لئے اقدام نہ اٹھائے گئے تو یہ اجتماعی زندگی میں فتنہ و فساد برپا کرتی رہیں گی. انھیں کی وجہ سے بھائ چارا اور آپسی میل جول میں دراڑیں پڑجاتی ہیں.اگر کوئ شخص بلا سبب اور بغیر کسی واضح دلیل کے بدگمانی کرے یا دوسروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں ہمیشہ بدگمانی سے ہی ابتداء کرے یا ایسے لوگوں کے معاملے میں بد گمانی سے کام لے جن کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہے کہ وہ نیک اور شریف ہیں اور ان میں وہ عیب نہیں پایا جاتا جس کی بنیاد پر بدگمانی کی گئی ہے تو ایسا کرنا اجتماعی اعتبار سے سماج میں یقیناً” فتنہ اور فساد کا مؤجب ہوگا کہ جو نہ صرف ناقابل قبول ہوگا بلکہ قابل سزا بھی ہوگا.
سوء ظن جیسی کسی بھی اتنی حساس سماجی برائی کو چند افراد کے زریعے کی جانے والی وقتی تنبیھات اور بیانات دئے جانے کے زریعے دور نہیں کیا جاسکتا .کیونکہ سوء ظن رکھنا ایک آخلاقی برائ ہے اس لئے علم اخلاقیات کی ترویج اور تبلیغ کے زریعے ہی اس برائ کو روکا جاسکتا ہے جس کی ھدایت کے لئے ہمارے پاس قران کریم اور حدیث پاک کے منارے موجود ہیں۔
۔





