9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
شارق اعجاز عبّاسی
جو یوں تم شعر کہتے ہو کلیجہ منہ کو آتا ہے
مری مانو ذرا جذبات پر قابو بنا رکھو
کہیں کے تم نہ چھوٹو گے کہیں کا نہ رہونگا میں
مجھے بھی صبر کرنا ہے تمہیں بھی صبر کرنا ہے
ملاقاتیں محبت میں اگر کم ہوں تو بڑھتی ہے
ملوگے ہر پہر جو تم کہیں یہ کم نہ ہوجایے
میں ڈرتا ہوں اسی خاطر کہیں ہم دور نہ ہولیں
بنی رہنے دو کچھ دوری محبت کم تو نہ ہوگی
سمجھتا ہوں میں تیرا غم تو میرا کرب جانے ہے
تو پھر کاہے کا رونا ہے بھلا ہے کیسی مجبوری
محبت اپنی زندہ ہے ہو چاہے کتنی بھی دوری
نہ تجھ کو بھولتا ہوں میں نہ تو مجھکو بھلاتی ہے
جدائی میں بھی اک دوجے کی ہمکو یاد آتی ہے
یہی سب تو محبت ہے اسی کو پیار کہتے ہیں
بھلے ہوں دور کتنے بھی ہر اک دم ساتھ رہتے ہیں
ذرا جذبات کا طوفاں سنبھالو مان لو میری
محبت یوں بھی ہوتی ہے محبت یوں ہی ہوتی ہے
نہ ایسے شعر اب پڑھنا زمانہ جان جایگا
محبت جو حقیقی ہے تو اسکا مان جائے گا
مری مانو ذرا جذبات پر قابو بنا رکھو





