Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldانسانی ہوس کی ’تحدید ‘ ور روحانیت کی ’تجدید ‘ ضروری

انسانی ہوس کی ’تحدید ‘ ور روحانیت کی ’تجدید ‘ ضروری

प्ले स्टोर से डाउनलोड करे
 AVADHNAMA NEWS APPjoin us-9918956492—————–
अवधनामा के साथ आप भी रहे अपडेट हमे लाइक करे फेसबुक पर और फॉलो करे ट्विटर पर साथ ही हमारे वीडियो के लिए यूट्यूब पर हमारा चैनल avadhnama सब्स्क्राइब करना न भूले अपना सुझाव हमे नीचे कमेंट बॉक्स में दे सकते है|

عالم نقوی

علی گڑھ ۳۱ دسمبر (عالم نقوی ) ’’آج ہمارا ملک اور ہمارا معاشرہ باہمی تنفر اور تعصب کے جس خطرناک دور سے گزر رہا ہے اور جس قدر اعلیٰ انسانی قدریں پامال ہورہی ہیں ،ضرورت ہے کہ صوفیائے کرام کے پیغام کو عام کیا جائے تا کہ آدمی پھر سے انسان بننے کی آرزو کرنے لگے ،محبت کے کچے دھاگے پھر سے عوام کو انسانیت کے رشتے میں باندھنے لگیں ،ایک بہتر صحت مند معاشرہ تعمیر ہو جس میں انسان کی ہوس کی تحدید ہو اور روحانیت کی تجدید ‘‘ یہ گرانقدر الفاظ ڈاکٹر نریش کے ہیں جو آج انہوں نے یہاں ابن سینا اکیڈمی علی گڑھ میں گیارہواں ابن سینا یادگاری خطبہ دیتے ہوئے کہے ۔
پنچ کولہ پنجاب کے رہنے والے پنج زبان ادیب ،دانشور ،محقق ،افسانہ نگار ،شاعر اورہندی ،اردو ،انگریزی اور پنجابی میں ۷۵ سے زائد علمی ادبی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف ، ساہتیہ اکاڈمی چنڈی گڑھ کے چئیر مین اور پنجابی یونیورسٹی کے ویزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹرنریش سے جب پوچھا گیا کہ’ وہ کون سی کتاب ہے جسے وہ بار بار پڑھنا چاہتے ہیں ؟‘تو ان کا جواب تھا : قرآن مجید !
اُن کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع ’’ماڈرن ہندی شاعری پر اردو کا اثر‘‘ تھا جو نیشنل بک ٹرسٹ سے شایع ہو چکا ہے۔ ’’تصوف : تاریخ اور فلسفہ ‘‘ ان کی تازہ ترین کتاب ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ’’گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں ہندستان میں ا یک دلچسپ موڑ آیا ۔بیرونی ممالک سے بہت سے مسلمان ہندستان آئے جن میں سے بعض’ تیغ بکف ‘تھے تو بعض ’تسبیح بکف ‘ !‘‘
اس سے بہت پہلے ،دسویں صدی عیسوی ہی میں مالابار کے ساحلوں پر تاجر مسلمانوں کی آمدکا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ،جن کی ایمانداری حیرت انگیز تھی ۔ان میں سے بیشتر اپنے وطن واپس جانے کے بجائے یہیں کے ہورہے تھے ۔ اسی زمانے میں یعنی قریب ایک ہزار سال قبل کرالا میں تعمیر ایک مسجد آج بھی ان کی زندہ یادگار کے بطور موجود ہے ۔
ڈاکٹر نریش نے اپنے خطبے میں کہا کہ ’’تسبیح بکف مسلمان منگولوں کے حملوں سے افرا تفری کا شکار ہوئے علاقوں سے ہجرت کر کے امن و سکون کی تلاش میں یہاں آئے تھے اور ان کا ارادہ اس ملک کو صراط مستقیم دکھانے کا تھا ۔اِن تسبیح بدست مسلمانوں کی خدا پرستی ،انکساری ،بے غرض خدمت خلق اور انسان دوستی سے یہاں کے لوگ اس قدر متاثر اور گرویدہ ہوئے کہ بجائے اس کے کہ وہ تیغ بکف مسلمانوں سے نفرت کرتے وہ ان تسبیح بکف مسلمانوں کے سامنے سر بسجدہ ہو گئے ۔یہ تسبیح بکف مسلمان صوفیائے کرام تھے ،جن کے ’اقوال و اعمال ‘میں ہندستانی عوام کو ایمانداری اور سچائی نظر آئی اور ان کو محسوس ہوا کہ وہ تو ’اُن ہی کی بات کر رہے ہیں ‘!‘‘
آخر ’’وہ یہی تو کہتے تھے کہ’ اللہ سے ڈرو ،اللہ کو یاد کرو ،اور اللہ سے عشق کرو ‘!جو ان کے سناتن دھرم کی قدیم کتابوں رِگ وید اور یجر وید میں بھی مِن و عَن موجود تھا کہ ’’خدا ایک ہے ،دوسرا کوئی نہیں ہے اور یہ کہ وہ بے پیکر ہے ‘‘! صوفیہ بھی تو یہی کہہ رہے تھے !ہندستانیوں کے اُن اعتقادات کی روشنی میں دیکھا جائے تو آدھا کلمہ تو وہ نزول اسلام سے قبل ہی پڑھ چکے تھے ۔صوفیائے کرام نے ان پر رسول کریم کی حیات طیبہ روشن کی تو اُن میں سے بہت سے لوگوں نے پورا کلمہ بھی پڑھ لیا ۔ ‘‘
ڈاکٹر نریش نے بتایا کہ ’’صوفیائے کرام بنیادی طور پر ’فقیر‘ تھے یعنی فقر و فاقہ ،قناعت ،یاد الٰہی اور ریاضت ! صوفیائے کرام نے یہ کہا ہی نہیں ،کر کے بھی دکھا یا ۔ ان کی بے مثال قناعت کا یہ عالم تھاکہ ان کی خانقاہوں میں جو کچھ روزانہ آتا تھا اس میں سے حسب ضرورت استعمال کر کے بقیہ سب غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا ۔اگر کسی روز کہیں سے کچھ بھی نہ آتا تو اس دن خانقاہ میں فاقہ ہوتا تھا !
صوفیائے کرام خلق خدا کی خدمت کی محض زبان ہی سے تلقین نہیں کرتے تھے ،اُس پر عمل پیرا بھی تھے ۔ان کی محبت انسانوں تک ہی محدود نہیں تھی وہ چرند و پرند پر بھی اپنی محنت لُٹاتے تھے ۔ ہندستان کےقدیم روحانی پیشواؤں کی طرح ’وسو دھیو کٹم بُکم ‘ان کا بھی عملی وطیرہ تھا ۔‘‘انہوں نے کہا کہ ۔’’ صوفی عشق و محبت کی تصویر ہوتے تھے ۔ محبت عشق تب بنتی ہے جب اس میں جنون شامل ہوجاتا ہے ۔صوفیا خدا سے محبت نہیں عشق کرتے تھے ۔’ محبت‘ تو ان کو’ خلق ِخدا‘ سے تھی جس کی فلاح و بہبود کے لیے وہ ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے ۔حضرت امیر خسرو نے کہا ہے کہ : من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی ۔۔تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری ۔۔تصوف کی یہ آخری منزل ویدانت میں بھی موجود ہے
زززز

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular