ڈاکٹر سرفراز نواز
آوازیں فنا نہیں ہوتیںاور نہ وہ لفظ جو انھیں ادا کرتے ہیں۔لوگ چلے جاتے ہیں،آوازیں گشت کرتی ہیں، لفظ احساس کی پرتیں ٹٹولتے رہتے ہیں اور انھیں احساس کی پرتوں سے کچھ چہرے ابھرتے ہیں جو اپنی اپنی آواز سے پہچانے جاتے ہیں۔دیکھا جائے تو ہم سب آوازیں اور لفظ ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔اگر ہم نے اپنی آواز کو لفظ نہیں دئے تو ہم صرف تصویروں میں قید ہو جائیں گے جن کے رنگ دھیرے دھیرے دھندلے پڑ جائیں گے اور پھر ان پر وقت کی ایسی دھول جمے گی وہ اپنی شناخت کھو دیں گی۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنھیں آواز ملی اور انھوں نے اسکی حفاظت کی، اسے گفتگو کے اس میعار تک پہونچایا کہ ہر لفظ اپنے انفرادی رکھ رکھاو سے ہم آہنگ ہوا۔اور اسے اس طرح زندہ جاوید کیا کہ سماعتوں نے اسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا۔آواز کے زیر وبم، لہجہ کی سج دھج، باتوں کی کھنک، کلام کے رنگ، سخن کی خوشبو، ان سب کے امتزاج سے جو سحر پیدا ہوا وہ انور جلال پوری کے تکلم تک پہنچا۔
انور صاحب کی آواز کا جادو برِ صغیر سے ہوتا ہوادنیا کے ان تمام ممالک تک پہونچا جہاں جہاں اردو کی بستیاں قائم ہیں اور جہاں جہاں لوگوں نے انھیں سنا، انکے اندازِ بیان کے گرویدہ ہوئے بنا نہیں رہ سکے۔ان کے لہجہ میں زندگی کے نشیب و فراز سے کشید کئے ہوئے تجربات کی مہک تھی، ان کی باتیں عام لوگوں کی باتیں تھیں، وہ کوئی بھاری بھرکم یا ثقیل الفاظ کا استعمال نہیں کرتے تھے مگر لفظ موتی کی طرح جڑے ہوئے ان کے کلام کی چمک کو دوبالا کرتے تھے۔ شاید احمد فراز نے ان کے لئے ہی کہا تھا۔
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
میں نے اپنی نو عمری میں جن دو ناظمینِ مشاعرہ کو مقبولیت کی بلندیوں کو چھوتے دیکھا وہ عمر قریشی اور پروفیسر ملک زادہ منظور تھے۔دونوں اپنے اپنے رنگ میں مشاعرے کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔ان کی نظامت میں منعقد ہونے والے مشاعرے یادگار ہیں۔ان کے ساتھ ہی انور جلال پوری نے نظامت کے میدان میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑ دیا۔وہ اتنے کامیاب ہوئے کہ مشاعرہ اور انور جلال پوری لازم و ملزوم ہو گئے۔ان کا جادو کچھ اس طرح چلا کہ لفظ ناظمِ مشاعرہ سے ہمارے ذہن میں جو تصوریر بنتی وہ صرف اور صرف انور صاحب کی ہی ہوتی۔اور ایسا کیونکر نہ ہوتا جب مشاعروں کی دنیا کو وہ بے مثال شحص ملا جس نے گفتگو کے نئے پیرائے ایجاد کئے، جس نے لفظوں کو متانت، سنجیدگی ، سلاست، روانی ، شستگی و شائستگی سے گوندھ کر اور اس میں لطیف مزاح کی چاشنی ڈال کر ایک ایسا لہجہ پیدا کیا جو دلوں کو مسحور کرتا تھا اور جس پر سماعتوں کو ناز ہوتا تھا۔وہ صرف ناظمِ مشاعرہ نہ تھے۔وہ ایک نکتہ رس شاعر، ادیب، فلسفی اور ایک نیک طبیعت و سادہ لوح انسان تھے۔انکی گفتگو جہاں عصری سچائیوں کا احاطہ کرتی تھی وہیں ماضی کے سنہری دور سے پردہ اٹھا کر نئی نسل کو انکے اسلاف کی تہذیب اور طرزِ زندگی سے روشناس بھی کراتی تھی۔میںان کو جب بھی سنتا انکی باتوں میں کھو جاتا۔ان کی باتوں میں ایک آفاقی پیغام ہوتا۔ محبت، وفا، خلوص،، انسان دوستی، رواداری، تہذیب اورزندگی کر نے کا سلیقہ جیسے مضامین سے انکی شاعری بھی عبارت تھی اور انکی زندگی بھی۔انھوں نے شاعری کو صرف روایت کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ شاعری کا رشتہ زندگی سے استوار کیا اور دنیا کے سامنے شاعر کا نصب العین بھی واضح کر دیا۔انھیں کے لفظوں میں۔
میں ایک شاعر ہوں مرا رتبہ نہیں کسی بھی وزیر جیسا
مگر مرے فکر و فن کا پھیلائو تو ہے بر صغیر جیسا
نثر ہو یا شاعری، دونوں میدانوں میں انھوں نے اپنے تخلیقی جوہر کا لوہا منوایا۔انکی نثرمیں بہتے پانی کی سی روانی ہے جسے پڑھتے ہوئے وہی مانوس آہنگ ذہن سے ٹکراتا ہے جو ان کی گفتگو کا خاصہ ہے۔انکی درجنوں تصنیفات منظرِ عام پر آکر ادبی دنیا میں داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔وہ صرف مشاعروں کی دنیا تک ہی محدود نہ تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر کے ساتھ ساتھ اپنی تحریر کے نقش و نگار ابھارے اور اردو زبان و ادب کے سرمائے کو مالامال کیا۔ مشاعروں کی دنیا کے حوالے سے اپنے ہمعصر شعرا کے حالات زندگی پر مبنی انکی کتاب ’روشنائی کے سفیر‘ ادبی حلقوں میں کافی پسند کی گئی۔ اس کے علاوہ انکی معرکتہ الآرا کتاب ’اردو شاعری میں گیتا ‘ ہے جو سلیس اردو شاعری میں گیتا کا ترجمہ ہے۔ انور صاحب یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسکی ابتدا پنڈت برج نرائن چکبست نے اپنی ایک نظم ’ رامائین کا ایک سین‘ سے کی تھی۔ میں ذاتی طور پر اسے چکبست کی شاہکار نظم مانتا ہوں۔ واقعہ نگاری، منظر نگاری، جذبات نگاری، کردار نگاری، زبان و بیان کا حسن،سلاست، فصاحت و بلاغت، کا ایسا اعلیٰ نمونہ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔اسے پڑھنے کے بعد یہی خیال آتا ہے کہ کاش چکبست نے پوری رامائن کو اردو شاعری کے قالب میں ڈھالا ہو تا اورصرف ایک سین پر اکتفا نہ کرتے تو آج اردو دنیا کو ایک بیش قیمت فن پارہ حاصل ہوتا۔انور صاحب کو پڑھتے ہوئے بھی حیرت خیز مسرت کا احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے گیتا کے پیغام کو عوامی زبان میں پیش کر کے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔
میری ان سے ملاقات علامہ شبلی کی یاد میںمنعقد بھیونڈی کے ایک مشاعرہ میں۲۰۰۸ میں ہوئی۔ میرے گائوں کے حاجی نعمان صاحب کی سرپرستی میں رہبر ویلفیر ٹرسٹ کی جانب سے یہ مشاعرہ ہوا جس میں مجھے بطور شاعر مدعو کیا گیا تھا۔ یہ میری زندگی کا بطور شاعر پہلا مشاعرہ تھا۔آج بھی اس سے جڑی یادیں ذہن کے پردے پر نقش ہیں۔ انور صاحب ایک روز پہلے ہی تشریف لائے تھے۔اب تک میں نے انھیں صرف ایک مداح اور سامع کے طور پر دور سے دیکھا اور سنا تھا۔یہ پہلا موقع تھا جب ان سے میری بالمشافہ ملاقات ہونی تھی۔ نعمان بھائی کے دفتر کے اندرونی کمرے میں جہاں وہ اسطرحت فرما رہے تھے، مجھے جانے کی اجازت ملی۔میری بے تابی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ پھر وہ لمحہ بھی آیا جب انھوں نے لب کھولے اور میں سخن کے پھول اپنی سماعت کے دامن میں اکٹھا کرنے لگا۔آج بھی سوچتا ہوں تو اس لمحہ کی خوشبو سے ذہن معطر ہو جاتا ہے۔ ان سے گفتگو ہوئی اور خوب ہوئی، انھوں نے میری نظموں کی کتاب ’ اس چھوٹے سے لمحے میں‘ کے اوراق پلٹے، سرسری نگاہ دوڑائی اور انکی پارکھی نظر نے سب کچھ دیکھ لیا۔میری خوش قسمتی کہ مجھے ان سے دعائیں ملیں ۔
اگلے روز مشاعرہ کے اسٹیج پر انھوں نے میرا کچھ ایساتعارف کرایا کہ سماں باندھ دیا اور مجھے وہ حوصلہ ملا کہ میں نے پورے اعتماد اورکامیابی کے ساتھ مشاعرہ پڑھا۔اس طرح ان سے پہلی ملاقات اور تبادلۂ خیال نے ہی ان کی شخصیت کو جاننے ور پہچاننے کی سب راہیں ہموار کر دیںاور ہمارے درمیان ایک مضبوط رشتے کی بنیاد پڑی۔یہ رشتہ کئی حوالوں سے اور پکا ہوا۔ پہلا تو یہ کہ شبلی کالج، جہاں میں شعبۂ انگریزی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہوں، وہ انکی کی بھی مادرِ علمی ہے، دوسرا یہ کہ وہ خود بھی اپنے آبائی وطن جلال پور میں انگریری کے استاذ رہے۔اسکے علاوہ شعر و شاعری کی نسبت اپنی جگہ۔
ان سے علمی گفتگو کے دوران باہم طے پایا گیا کہ میں ان کے منتخب کلام کا انگریزی ترجمہ کروں۔یہ میرے لئے مسرت کا مقام تھا۔ گذشتہ سترہ سالوں سے شبلی کالج میں شعبہ انگریزی سے وابسطہ ہوں۔انگریزی کی تدریس توپیشے کے اعتبار سے فرائض میں شامل ہے مگر جہاں تک فطری لگائو کی بات ہے اردو سے دل کا رشتہ ہے۔ اسی رشتے کے اعتماد نے اردو کے میدان میں قدم رکھنے کا حوصلہ دیا اور میرے شوقِ ناتواں نے بھی اردو شاعری کے گیسو سنوارنے کی جسارت کر ڈالی۔
ترجمہ کا میدان میری دلچسپی کا ہے۔ اس سے پہلے بھی میں نے انگریزی ادب کے چند مشہور شعرا کی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ پیش کیا تھا جو ’نوائے مغرب ‘ کے نام سے ۲۰۰۲ میں شائع ہوا۔بحر حال انور جلال پوری سے ملاقات اس باب میں ایک نئی سمت کی طرف لے آئی کہ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے اردو شاعری کو انگریزی کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ۔ گو کہ میں ان تمام پابندیوں اور حدود سے واقف ہوں جن سے مترجم کا قلم جکڑا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان کا تہذیبی اورسماجی پس منظر، اس کا اپنا انفرادی مزاج اور مخصوص لب و لہجہ ایسے مستحکم اور غیر متزلزل بنیا دی ڈھانچے ہیں جنھیں کسی اور شکل میں ڈھالنا ایک سعیٔ لاحاصل کے سوا کچھ بھی نہیں، پھر بھی اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ اچھے ترجمے ہی ادب کا رخ موڑتے ہیں۔یہ کتابRays of Thoughts کے نام سے۲۰۱۶ میں منظرِ عام پر آئی۔۔ انور صاحب نے میری کاوش کو خوب سراہا اور میرے اعتماد اورحوصلہ کو مزید تقویت ملی۔
انور صاحب سے ایک خاص لگائو تھا۔ان سے گفتگو کر کے بڑا سکون ملتا تھا۔ ہم مشاعروں میں کئی بار ملے۔جہاں جہاں وہ ٹکرائے انھوں نے مجھے اپنی محبتوں اور شفقتوں سے نوازا۔ وہ ملک میں رہے یاملک سے باہر،گاہے بہ گاہے ٹیلیفون پر ان سے بات چیت ہوتی رہتی اور خیر ت ملتی رہتی۔کسے خبر تھی کہ یہ سلسلہ بھی ایک دن ٹوٹ جائے گا۔میری ان سے آخری بار بات ۲۰ دسمر ۲۰۱۷ کو گیارہ بجے دن میں ہوئی۔میں اس وقت کلاس روم میں تھا۔لکچر سے فارغ ہو کر دوبارہ انھیں فون کیا۔اتفاق سے یہ آخری گفتگو محفوظ ہو گئی کیونکہ وہ مجھے گیتا کے پہلے شلوک کا ترجمہ سنا رہے تھے اور انھوں نے کہا کہ میں اسے رکارڈ کرلوں۔انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں اسکا انگریزی شاعری میں ترجمہ کر کے انکے میل پر بھیج دوں۔ میں نے خوشی خوشی حامی بھر لی۔غیر متوقع طور پر وہ ترجمہ کچھ جلدی ہی ہو گیا اور میں نے اسے بھیجنے کے بعد ان سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ جلال پور میں بیٹی کے سوگ میں تھے۔انھوں نے بتایا کہ لکھنؤ واپسی میں اسے دیکھیں گے۔ مگر اسی شام ان کے دماغ پر فالج کا اثر ہوا اور انکی حالت نازک ہو گئی۔دنیا اسپتال سے انکی واپسی کا انتظار ہی کر تی رہ گئی مگر یہ محبت کا سفیر اپنے آخری سفر پر نکل چکا تھا۔عجیب اتفاق ہے کہ انتقال کے کچھ ہی روز قبل دلی کے ایک مشاعرہ میں انھوں نے شرکت کی۔ اس میں پڑھنے کے لئے انھوں نے جس غزل کا انتخاب کیا، اس میں واضح اشارے تھے کہ اب شاید داعیٔ اجل کو لبیک کہنے کا وقت آ گیا ہے:
مری بستی کے لوگو اب نہ روکو راستہ میرا
میں سب کچھ چھوڑ کر جاتا ہوں دیکھو حوصلہ میرا
میں کم ضرفوں کی ایسی بھیڑ میں اب جی نہیں سکتا
میرے جانے کے فوراً بعد پڑھنا فا تحہ میرا
ابھی یہ سانحہ کیا کم تھا کہ دو ہی تین مہینوں کے بعد ۲۵ اپریل کو والدہ محترمہ نے داغ مفارقت دے ڈالا اور مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔انھوں نے بھی اسپتال کا رخ کیا اور کل بارہ تیرہ دنوں میں اپنے آخری سفر کا پر روانہ ہوئیں۔انور صاحب کے صاحب زادے ، جاں نثار سے جس روز میری گفتگو ہوئی اس دن میں والدہ کی میت ایمبولنس میں لئے لکھنؤ سے گھر کے سفر پر تھا۔انور صاحب کا یہ شعر بار بار یاد آتا ہے:
کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے
زمیں سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں گے
حال ہی میں لکھنؤ سے ہرش وردھن اگروال جی میرے گائوں انجان شہید آئے۔انور صاحب کی کتاب’اردو شاعری میں گیتا‘ انکے ہلپ یو ایجوکیشنل اینڈ چریٹبل ٹرسٹ نے شائع کی ہے۔انھوں نے انور صاحب سے میرے تعلق کے حوالے سے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اس کتاب کے ترجمے کے کام کو مکمل کروں۔میرے پاس انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ میرے لئے باعثِ اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ انور صاحب کو خراجِ عقیدت بھی ہوگا۔
یقین تو مشکل سے ہوتا ہے مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ مشاعروں کی دنیا میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے والے اس آواز اور الفاظ کے جادوگر کے لب ۲ جنوری ۲۰۱۸ کو ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئے ۔مگران لبوں سے پھوٹنے والے چشمے ابلتے رہیں گے اور سننے والے سیراب ہوتے رہیں گے۔انور صاحب کی آواز ملکوں ملکوں انکے لب ولہجہ کی چاشنی اور سحر انگیزی کے ساتھ یوں ہی گشت کرتی رہے گی اور ہماری سماعتوں کو معطر کرتی رہے گی۔اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اس جسدِ خاکی کو آخر خاک تک پہنچنا ہی ہے۔دکھ تو فطری بات ہے، رنج و غم سے دل پھٹ پڑتا ہے، افسوس کی کرچیاں رہ رہ کر جدائی کے زخم کو کریدتی رہتی ہیں مگر جانے والے کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی خوشبو ایک لطیف جھونکے کی طرح ہم سے ٹکراتی ہے اور ہماری افسردگی کو زائل کر دیتی ہے۔
Dr. Sarfaraz Nawaz Associate Professor
Department of English
Shibli National College, Azamgarh





