Tuesday, March 3, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldاعلیٰ فکاہی و مطائباتی کلام کے ذہین و زیرک شاعرڈاکٹر رضیؔ امروہوی

اعلیٰ فکاہی و مطائباتی کلام کے ذہین و زیرک شاعرڈاکٹر رضیؔ امروہوی

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

زیب النساء زیبیؔ

سید رضی حسنین کا تعلق ہندوستان کے شہر امروہہ ضلع مرادآباد یوپی سے ہے۔آپ کا قلمی نام ڈاکٹر رضیؔ امروہوی ہے۔آپ کی شاعری کی عمر تقریباً ۴۴ سال ہے اور تاریخ پیدائش ۲۵ اکتوبر۱۹۵۲ ء ہے یعنی آپ نے باقاعدہ شاعری کا آغاز بیس یا بائیس سال کی عمر میں کیا۔اصنافِ شاعری میں آپ غزل ،سہرا،نعت،منقبت اور قطعات لکھتے ہیں۔ شاعرانہ طبیعت کی رنگا رنگی ،مطائباتی و فکاہی شاعری کی جانب شدت سے مائل ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کا پہلا مجموعہ ’’غلط سلط‘‘طنز و مزاح کے حوالے سے ابتداء میں منظرِ عام پر لانا چاہتے ہیں۔
ہندوستان کے طول و عرض میں آپ بڑے بڑے مشاعرے پڑھ چکے ہیں جس میں جشنِ ریختہ دہلی،زندہ دلانِ حیدر آباد،جشن اردو ادب دہلی،رامپور،بریلی،ڈی ڈی اردوبریلی مرادآباد،سرسی،امروہہ ،نہٹور،متھرا،ایٹا،علی گڑھ،اٹاوہ،بدایوں،لکھنو،چندوسی،فریدآباد وغیرہ وغیرہ۔
طنز و مزاح کے شعبے میں اپنا ایک منفرد مقام اور پہچان کی باعث کئی ایوارڈا ور اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیںوہ فہرست بھی طویل ہے لیکن میں چند کا ذکر یہاں ضرور کرنا چاہوں گی۔فروغِ اردو فائونڈیشن دہلی کی جانب سے اکبر الہ آبادی ایوارڈبرائے طنزو مزاح،شتاب خان میمورئل ایوارڈ ایسو سی ایشن علی گڑھ کی جانب سے حاصل کیا جبکہ ثمر میمورئل ایوارڈ برائے طنز و مزاح ریجنل اردو ٹیچر ایسو سی ایشن علی گڑھ سے حاصل کیا۔بے شمارریڈیو ٹی وی چینل کے پروگراموں میں بھی آپ کی شرکت رہی جنھیں ایف ایم دہلی،پروگرام’’ بہت خوب‘‘ ممبئی دبنگ چینل،بریلی دوردرشن،ڈی ڈی نیشنل دہلی،عالمی سہارا چینل دہلی،آل انڈیا ریڈیو دہلی،زی سلام چینل دہلی،ای ٹی وی اردو دہلی وغیرہ وغیرہ۔
اردو ادب میں آپ کی مقبولیت اور اہمیت کا اندازہ اس مختصر سے تعارف سے کیا جا سکتا ہے جہاں تک شاعری کا تعلق ہے اور میری رائے مطلوب ہے تو میرے زیرِ مطالعہ ان کا جو کلام آیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے مزاحیہ و طنزیہ ادب محض تفننِ طبع کے لئے تخلیق نہیں کیا ہے بلکہ اس میں اصلاحی اور مقصدی شعور و ادراک موجود ہے اور آپ اعلیٰ فکاہی و مطائباتی کلام کے ذہین و زیرک شاعر ہیں۔معاشرے اور سماج کے حالات و واقعات بدلتے تیور پہ آپ کی نظر گہری ہے جدید عہد کے مسائل سے بھی پوری طرح واقف ہیں۔ہمارے عہد اور انٹرنیٹ کی کرشمہ سازیاں دیکھئے:
آنکھیں ہر اک سے چار کرنے لگے
گھر میں بیٹھے شکار کرنے لگے
نیٹ کی شعبدہ گری دیکھو
اب تو بڈھے بھی پیار کرنے لگے
شاعر موصوف نے کس خوبصورتی سے ہماری تہذیبی ،ثقافتی اور اخلاقی شکستہ روایات کا نقشہ بیان کیا ہے بزرگ جو کسی بھی سماج میں عزت و احترام اور بلند مرتبت کا درجہ رکھتے ہیںان کی اخلاقی پستی اس جدید عہد میں اس انٹرنیٹ کی دنیا میں کس طرح نمایاں ہے اس پر سوائے کفِ افسوس ملنے کے کیا کیا جا سکتا ہے۔
اس نیٹ کی دنیا کا ایک اور شاخسانہ ملاحظ کیجئے:
نیٹ سے بچے ہمارے تجربہ لینے لگے
ریت کے میدان میں بھی کشتیاں کھینے لگے
اب بزرگوں سے نہیں لیتا ہے کوئی رائے بھی
مشورے ہم کو ہمارے نوجواں دینے لگے
انٹرنیٹ کی دنیانے چھوٹے چھوٹے بچوں کو وقت سے پہلے اپنے بزرگوں سے بڑا کردیا ہے وہ اب اپنے بڑوں کی نصیحتوں کو سننا پسند نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اتنا طرم خاں سمجھتے ہیں کہ صحرا میں ریت کے میدان میں کشتیاں تیرانے کی بات کرتے ہیں۔
آپ نہایت لطیف احساس ِ مزاح رکھتے ہیں کسی کی دل آزاری کئے بنا بہت خوبصورتی سے اپنی بات کہہ جاتے ہیں سادہ اور سہل انداز میں حالات زمانہ کی عکاسی کرتے ہیں معاشرے کے بگاڑ کو خوش اسلوبی کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں طنز نگاری میں آپ اخلاقیات کے پہلوکو مد نظر رکھتے ہیں ۔آپ کے طنز میں نفرت نہیں بلکہ اصلاح کا پہلو مخفی ہوتا ہے۔
آپ کے یہاں فکری اعتبار سے تنوع موجود ہے۔معاشرے کے ناگوار مناظر اور مسائل پرجو اشعار ملتے ہیں ان میں عمدہ اور لطیف طنز و مزاح کا عنصرموجود ہے۔
اکثر شعراء نے میاں بیوی کے رشتے میں بیوی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے نہایت پھٹکرانداز میں مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن آپ نے اس رشتے کے مابین محبت ،اخوت اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے:
دنیا میں عمر بھر کی ساتھی ہے صرف بیوی
باقی تو اپنے اپنے رشتے نبھا رہے ہیں
تم اس کو خوش رکھو گے وہ سب کو خوش رکھے گی
یہ بات راز کی ہم تم کو بتا رہے ہیں
ان کی نظر میں بیوی کی اہمیت اور اس کا مرتبہ کتنا اہم ہے اس قطعہ سے اندازہ کیجئے:
’’پہلا رشتہ‘‘
جان کر بھی بنتے ہو انجان کیوں
دور یہ موبائل و ٹی وی کا ہے
آدمؑ و حواؑ سے کیا ثابت نہیں
سب سے پہلا رشتہ بس بیوی کا ہے
ایک اور جگہ اپنے قطعے ’’عظمت بیوی‘‘میں لکھتے ہیں:
لے کے دنیا میں تو پیغامِ محبت آئی
کب زمانے کی سمجھ میں تری عظمت آئی
آدمؑ و حواؑکو دیکھو تو پتہ چلتا ہے
پہلے بیوی بنی،پھر قدموں میں جنت آئی
مزاح کی کئی اقسام ہیں مختلف شعراء انھیں اپنے اسلوب کا حصہ بناتے ہیں۔ہجو،پیروڈی،پھبتی،ضلع جگت،تعریض،رمز،ہزل پن،عامیانہ پن،پھکڑ پن،فارس،ٹھٹول،مذاق،بذلہ سنجی،مبالغہ آرائی،لعن طعن،مسخرہ پن،تنگ نظری،ابتذال،کارٹون،مزاحیہ کردار،سٹھنی،معاصرانہ نوک جھونک،عریانی و فحاشی،گالی گلوچ،مطائبات،تقلیبِ خندہ آور،تحریف،استہزاء،موازنہ و تضاد،تخریب و نشتریت،مضحکہ خیز واقعات،لفظی شعبدہ گری یا زبان و بیان کی بازی گری وغیرہ وغیرہ۔
اعلیٰ قسم کا مزاح پیدا کرنے کے لئے کچھ مزید ذیلی اقسام سے بھی کام لیا جاتا ہے مثلاً لفظی الٹ پھیر،اشعار کا بے تکہ استعمال مضحکہ خیز املا سے مزاح کی تخلیق،تکرارِ لفظی ،ابہام مزاحیہ صورتِ حال یا صورت واقعہ،مزاحیہ کردار،قول محال،تشبیہات و استعارت،جدت طرازی،رعایت لفظی،ذو معنی کنایہ،تمثیل،ضرب المثل اور خود اپنے آپ پر طنز کر کے مزاح پیدا کرنا۔
یہ شاعر کی ذہانت ہے کہ وہ طنز کو مقصدِ اصلاح کے لئے اس طرح پیش کرے کہ سماج کی برائی کو مزید برا بنائے اور اس سے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کر سکے اور انھیں ہنستے مسکراتے ہوئے اس برائی اور گندگی سے بچنے کی ترغیب دے سکے۔
طنز کی شدت میں اخلاقیات کا دامن کبھی نہیں چھوٹنا چاہئے یہ ایک اچھے مزاح نگار کی خوبی ہوتی ہے۔ڈاکٹر رضیؔ امروہوی بھی اپنے کلام میں جہاں لوگوں کو اصلاح کی جانب راغب کرتے ہیںوہیں وہ انھیں درد و کرب کی دنیا سے نکال کر ہنسی اور مسرت کی دنیا میں بھی لے جانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں وہ اپنے مخالفانہ نظریات میں دشمنی اور منفی خیالات کو ہوا دینے کے بجائے ان میں تیکھے پن کے ساتھ ساتھ اپنے فنکارانہ اظہار میں ہمدردانہ احساس اور نرمی کا عنصر غالب رکھتے ہیں۔
یہ کس طرح کا آئے ہیں سنگھار کر کے بزم میں
کہ آج ان کے رخ پہ ہے،یہ کیوں شفق غلط سلط
نہ رخ پہ رنگ و نور ہے نہ گیسوئوں میں پیچ ہے
ہوا ہوں کس کو دیکھ کر میں جاں بحق غلط سلط
مشکل ردیف قافیے اور بحور کا استعمال وہ نہایت مہارت کے ساتھ کرتے ہیں کلام میں بلا کی پختگی ہے تراکیبِ لفظی میں کمال حاصل ہے۔وہ طنز و مزاح کے اس مشقت طلب کام میں بہت غور و فکر کر کے نادر نکتے اٹھاتے ہیں اور قاری کو زیر لب تبسم مسکراہٹ اور ہنسی کے ساتھ اپنی ذہانت و فطانت پہ واہ واہ کہنے پر مائل کر دیتے ہیں:
وجود اصل ایک ہے جو واجب الوجود ہے
یہ ماسوا یہ ماورا،یہ ماخلق غلط سلط
ایک شعر اور قطعہ ان کا اور ملاحظہ کیجئے:
بیوی کو اپنی دیکھ کے حوروں کی بھیڑ میں
جنت میں ،میں نے جانے سے انکار کر دیا
ایک قطعہ’’رنڈوا‘‘
اس کی خوشیوں میں ہمیشہ ہی اضافہ کرنا
زندگی میں کبھی اس کی نہ اندھیرا کرنا
رب سے دن رات یہی ایک دعا کرتا ہوں
رنڈوا کر دے مجھے بیوی کو نہ بیوہ کرنا
دیکھئے کس خوبصورتی سے پہلو بچا کر موت جیسے نازک مسئلے کوPositivityمیں تبدیل کیا ہے۔یعنی آپ صرف بیوی کی خوشی اس کی راحت و آسائشات میں کمی کے بارے میں سوچتے ہوئے اﷲ سے دعا کرتے ہیں کہ میرے رب میرے بعد میری بیوی کی زندگی میں جو غم و آلام اور مصائب و مشکلات آئیں گی ان سے اس کو بچا لینا اور ایسا دن کبھی نہ لانا کہ وہ میری موت کے بعد دکھ و کرب کی تصویر بن بے بسی،مجبوری اور غم و اندوہ کا فسانہ ہو جائے۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ میری بیوی کو بیوہ نہ کرنا بے شک میں رنڈوا ہو جائوں۔
دیکھئے ایک نیا پہلو نیا انداز اسے شعریت کہتے ہیں جدت طرازی،تازگی اور توانائی سے بھرپوراندازِ اسلوب بے ساختہ واہ واہ کہنے کو جی کرتا ہے کیا دانائی کا نکتہ سامنے لائے ہیں۔
ان کی ایک اور نظم ’’اندھیرے میں‘‘کے اشعار دیکھئے:
آتا ہے نظر ان کا کردار اندھیرے میں
پوری طرح کھلتے ہیں سرکار اندھیرے میں
جب جب سنی پائل کی جھنکار اندھیرے میں
پیروں میں نظر آئی دستار اندھیرے میں
دستار کا استعمال دیکھئے پھر پائل کی جھنکار نے کس طرح زندگی کے اس رخ کی پوری کہانی کو چند اشعار میں پیش کر دیا ہے ۔اس نظم میں معاشرے کی ایک بڑی برائی اور کردار کی گراوٹ کی جانب توجہ مبزول کرائی گئی ہے۔
آخر میں آپ کی ایک نظم ’’اجی سنتے ہو‘‘سے چند اشعار جو ایک شاعر ادیب کی ’’عملی زندگی‘‘ کا احاطہ کرتی ہے ملاحظہ کریں:
شاعری ایسی بلا ہے میاں جس کے ہاتھوں
ہو گئے کتنے ہی برباد اجی سنتے ہو
خالی باتوں سے تو گھر بار چلا کرتا نہیں
میرے کس کام کی یہ داد اجی سنتے ہو
نوٹوں میں کھیلتے ہیں آج تمہارے چیلے
تم ہو بس نام کے استاد اجی سنتے ہو
آگئیں کتنے ہی چیلوں کی کتابیں چھپ کر
کیا چھپی آپ کی روداد اجی سنتے ہو
شاعرات اتنی لگا رکھی ہیں پیچھے تم نے
بیٹھی رہتی ہوں میں ناشاد اجی سنتے ہو
آخر میں کہوں گی کہ آپ نے سماجی ،اخلاقی، ادبی اور مطائباتی مسائل کو سلجھانے اور ان میں اصلاح اور فلاح پیدا کرنے کی جس ذہانت و بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ داد ہے۔
اﷲکرے زورِ قلم اور زیادہ۔
کراچی پاکستان

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular